بابا گورو نانک کا 556 واں جنم دن، 2100 بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
لاہور:
بابا گورونانک دیو جی کے 556 ویں جنم دن کی تقریبات کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئیں، پاکستان ہائی کمیشن نیو دہلی نے 2100 بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے۔
بھارتی مہمان 4 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان آئیں گے، جنم دن کی مرکزی تقریب 5 نومبر کو گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں ہوگی۔
پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی نے ان تمام یاتریوں کو 4 سے 13 نومبر تک کے ویزے جاری کیے ہیں۔ بھارتی سکھ یاتری 4 نومبر کو پیدل واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچیں گے، جہاں سے وہ ننکانہ صاحب روانہ ہوں گے۔ 5 نومبر کو گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں بھوگ اکھنڈ پاتھ صاحب اور مقامی گوردواروں میں خصوصی مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی۔ یہ دن سکھ مذہب میں گہری عقیدت اور روحانی تجدید کا دن تصور کیا جاتا ہے۔
بھارتی سکھ یاتریوں کو ایسے وقت میں مذہبی یاترا کے لیے ویزے جاری کیے گئے ہیں جب دونوں ممالک کے مابین تناؤ ہے اور باہمی بارڈ بند ہیں۔
پاکستان ہائی کمیشن نیو دہلی میں ناظم الامور سعد احمد وڑائچ نے سکھ یاتریوں کو مبارک باد پیش کی اور ان کے لیے ایک پُرمسرت اور روحانی طور پر بابرکت سفر کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے اپنے مستقل عزم کے تحت سکھ برادری کو زیارت کے مواقع فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ پاکستان ہائی کمیشن کے مطابق، ان ویزوں کا اجرا 1974 میں طے پانے والے پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ معاہدے ’’پروٹوکول آن وزٹس ٹو ریلیجیس شرائنز‘‘ کے تحت کیا گیا ہے۔
شیڈول کے مطابق، بھارتی یاتری 6 نومبر کو حسن ابدال روانہ ہوں گے اور گوردوارہ پنجہ صاحب میں قیام کریں گے۔ 8 اور 9 نومبر کو وہ نارووال میں گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور میں مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ 10 نومبر کو قافلہ لاہور روانہ ہوگا، جہاں وہ گوردوارہ روڑی صاحب ایمن آباد گجرانوالہ اور بعد ازاں گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں حاضری دے گا۔ 11 اور 12 نومبر کو یاتری لاہور میں ہی قیام کریں گے جبکہ 13 نومبر کو واہگہ کے راستے واپس بھارت روانہ ہوں گے۔
تمام یاتریوں کی نقل و حرکت اور قیام و طعام کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) کے ترجمان کے مطابق بھارت کے علاوہ کینیڈا، برطانیہ، امریکا اور آسٹریلیا سے بھی سیکڑوں یاتری پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ سکھ زائرین کی سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ تمام مقامات پر متروکہ وقف املاک بورڈ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بھارتی سکھ یاتری سکھ یاتریوں کو ہائی کمیشن ویزے جاری نومبر کو کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔