پشاور (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، ملک کی ترقی کے لیے اس سیاسی تناؤ کو ختم کرنا ہو گا اور اس کے لیے مقتدر حقلے اپنا کردار ادا کریں۔ بونیر میں پی ٹی آئی کے 5 اگست کو احتجاج کے سلسلہ میں جلسے  سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ 9 مئی واقعات کے بعد ملک بھر میں سیاسی تناؤ بڑھ گیا۔ ہمارے لوگوں پر مقدمات بنائے گئے، سزائیں دی گئیں اور نااہل کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی اور سینیٹرز کو نااہل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے تناؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے لوگوں نے مقدمات سہے، نااہلیاں سہہ لیں اور بھاری قیمت ادا کی، اب مقتدر حلقوں کی باری ہے کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں، وہ اس میں کردار ادا کریں اور ملک میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو ختم کریں کیونکہ جب عوام میں تناؤ بڑھتا ہے تو جہموریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اب اگر جمہوریت کو آگے بڑھنا ہے تو مقتدر حلقوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ لوگ پہلے یہ پوچھتے تھے کہ بانی پی ٹی آئی کا کیس کب لگے گا، اب صبح شام لوگ یہی پوچھتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کب رہا ہوں گے اور جب تک وہ رہا نہیں ہوں گے ہر طرف سے یہی آواز آئے گی کہ بانی چیئرمین کو رہا کرو۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اب ہوش کے ناخن لو، کچھ آسانیاں پیدا کرو، مزید مقدمات اور نااہلیوں سے باز آ جاؤ، بانی چیئرمین کو رہا کرو کیونکہ ایسی صورت حال سے سیاسی تناؤ مزید بڑھے گا، اس سے عوام میں غصہ بڑھے گا اور بدامنی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے اور عوام کا اداروں پر عدم اعتماد مزید بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک ایسے سیاسی تناؤ کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے سب سے درخواست کرتا ہوں کہ ایسا سیاسی تناؤ ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ملک ترقی کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر سیاسی تناو پی ٹی آئی نے کہا کہ

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان