پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈبلیو سی ایل کیساتھ تعلقات ختم‘ آئندہ شرکت پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
لاہور (سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں مستقبل میں کسی بھی قسم کی شرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ پی سی بی کے 79 ویں بورڈ آف گورنرز اجلاس میں کیا گیا جو چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت ورچوئلی منعقد ہوا۔ پی سی بی نے اپنے اعلامیہ میں ڈبلیو سی ایل کے اس عمل پر سخت مایوسی کا اظہار کیا جس میں جان بوجھ کر میچ نہ کھیلنے والی ٹیم کو پوائنٹس دیئے گئے اور پاکستان بمقابلہ بھارت لیجنڈز میچز کی منسوخی کا اعلان ایسے الفاظ میں کیا گیا جو منافقت اور جانبداری پر مبنی تھے۔ کھیل کے میدان کو سیاسی مقاصد اور تجارتی مفادات کے تابع کرنا قابلِ مذمت ہے۔کھیل کے ذریعے امنکا نعرہ صرف مخصوص مواقع پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں کھیل کو سیاسی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پی سی بی نے واضح کیا کہ وہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کا اصولی موقف رکھتا ہے اور ہمیشہ اس بات کا حامی رہا ہے کہ کرکٹ خیرسگالی، احترام اور صحت مند مقابلے کا ذریعہ ہونی چاہیے۔ لیجنڈز پر مشتمل ٹورنامنٹ کو سیاسی جذبات کے زیرِ اثر چلانا نہایت افسوسناک اور کھیل کی روح کے منافی ہے۔پی سی بی نے ڈبلیو سی ایل کی جانب سے دی گئی "معذرت" کو دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اعتراف سے واضح ہوتا ہے کہ میچ کی منسوخی کرکٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ مخصوص قومی بیانیہ کو خوش کرنے کیلئے کی گئی۔اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پی سی بی نے سخت موقف اپناتے ہوئے ڈبلیو سی ایل کیساتھ آئندہ کسی بھی قسم کی شرکت کو خارج از امکان قرار دیدیا ہے۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی ایونٹ کا حصہ نہیں بنے گا جہاں غیرجانبداری، منصفانہ کھیل اور اسکی اصل روح کو سیاسی دبائو کے تحت پامال کیا جائے۔اجلاس میں سمیر احمد سید، سلمان نصیر سمیت دیگر شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈبلیو سی ایل پی سی بی نے کو سیاسی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔