نیشنل سٹیزن پارٹی کا 24 نکاتی منشور جاری، نئے بنگلہ دیشی آئین کا وعدہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
نیشنل سٹیزن پارٹی یعنی این سی پی نے گزشتہ روز دارالحکومت ڈھاکہ کے مرکزی شہید مینار پر ایک بڑے عوامی اجتماع میں اپنا 24 نکاتی منشور پیش کیا، جس میں ایک دوسری جمہوریہ کے قیام اور منتخب آئین سازاسمبلی کے ذریعے ایک نیا آئین مرتب کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔
پارٹی کے کنوینر ناہید اسلام نے منشور پڑھ کر سناتے ہوئے اعلان کیا کہ نیا بنگلہ دیش ایک ایسی ریاست ہوگی جو مختلف زبانوں، ثقافتوں اور نسلی شناختوں کو تسلیم کرے گی، اور جہاں برابری، انسانی وقار اور سماجی انصاف کو بنیادی اصول بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں جاتیہ ناگورک پارٹی کا آغاز، نئے آئین سمیت ’دوسری جمہوریہ‘ کا مطالبہ
ان کا کہنا تھا کہ یہ وژن استعماری دور کی مخالفت، جنگِ آزادی، اور جولائی کی عوامی بغاوت جیسے تاریخی لمحات میں عوام کے اجتماعی شعور سے جنم لیتا ہے۔
منشور میں واضح کیا گیا ہے کہ نئی ریاست کا پہلا قدم ایک نیا آئین ہوگا، جو آمریت، موروثی سیاست اور فاشزم جیسے ڈھانچوں کا خاتمہ کرے گا، اور ایک ایسی عوامی جمہوریہ کی بنیاد رکھے گا جو ہر طرح کے امتیاز سے پاک، شمولیتی اور فلاحی ہو۔
آئین میں انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے درمیان اختیارات کی علیحدگی اور توازن کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ جولائی کی عوامی تحریک سے متعلق ’جولائی ڈیکلریشن اورجولائی چارٹر‘ کو آئینی حیثیت دی جائے گی۔
این سی پی نے اپنی سیاسی جدوجہد کو جولائی 2024 کی عوامی بغاوت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تمام شہدا کو ریاستی اعزاز دے گی، زخمیوں کی مکمل طبی دیکھ بھال، بحالی اور تاحیات تعاون کو یقینی بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:عوامی لیگ نے متنازع بنا دیا، شیخ مجیب کو بابائے قوم نہیں سمجھتے، بنگلہ دیشی مشیر اطلاعات
پارٹی نے وعدہ کیا کہ عوامی لیگ کے دور حکومت میں ہونے والے جولائی کی نسل کشی، شاپلہ چوک قتلِ عام، بی ڈی آرواقعہ، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل سمیت مبینہ مظالم پر انصاف فراہم کیا جائے گا اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
منشور میں ریاستی و جمہوری اداروں کی تنظیمِ نو، عدالتی نظام میں اصلاحات، شفاف اور عوامی خدمت پر مبنی بیوروکریسی، اور عوام دوست قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دیہی سطح پر ’پارلیمانِ دیہات‘ کے قیام اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کو ترجیح دیتے ہوئے منشور میں یونیورسل ہیلتھ کیئر، قومی تعمیر پر مبنی تعلیم، تحقیق و اختراع، اور ڈیجیٹل ترقی پر سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا، مذہبی، نسلی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق اور وقار کو آئینی تحفظ دینے کا وعدہ بھی منشور کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں:جماعت اسلامی کا بنگلہ دیش کے قیام سے اب تک کے واقعات پر وائٹ پیپر شائع کرنے کا مطالبہ
خواتین کے تحفظ، حقوق اور بااختیاری کو یقینی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی نے ایک ایسی معیشت قائم کرنے کی بات کی ہے جس کا مرکز انسان دوستی اور فلاحی ہو۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے، تجارت و صنعت کاری کے لیے جامع پالیسی، پائیدار زراعت اور غذائی خودمختاری کو بھی اہم اہداف قرار دیا گیا۔
منشور میں مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام، منظم شہری ترقی، ٹرانسپورٹ اور رہائش جیسے مسائل کے حل، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ بیرون ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کے حقوق و وقار کے تحفظ، قومی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی، اور جامع قومی دفاعی حکمت عملی کی تیاری بھی پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔
ناہید اسلام نے کہا کہ وہ ایک ایسے بنگلہ دیش کا خواب دیکھتے ہیں جہاں ہر شہری کو وقار، انصاف، سلامتی اور امید کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔ ’یہ 24 نکات محض وعدے نہیں بلکہ ایسے عہد ہیں جو ہمیں ایک خودمختار، جمہوری اور شمولیتی مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: سابق بنگہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیا 6 سال بعد منظر عام پر آگئیں
اجتماع کے دوران مطالبہ کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی باہمی رضا مندی سے تشکیل دیے گئے’جولائی چارٹر‘ کو 5 اگست تک قانونی حیثیت دی جائے اوراس پرعملدرآمد شروع کیا جائے۔اجتماع کے مقام پر شہدا کے خاندانوں اور زخمیوں کے لیے نشستیں مختص کی گئیں، جبکہ 6 بڑی اسکرینوں پر براہِ راست خطاب دکھایا گیا۔ رہنما سرخ قالین پر بیٹھے جبکہ کارکنان بینرز، جھنڈوں اور نعروں کے ساتھ مختلف قافلوں کی صورت میں شریک ہوئے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے این سی پی کے رکنِ سیکریٹری اختر حسین نے کہا کہ جولائی تحریک سے جنم لینے والی نئی نسل قومی بحرانوں کا سامنا جان کی بازی لگا کر کرے گی، انہوں نے عدلیہ اور انتظامیہ کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنے اور پالیسی سازی میں شفافیت کی ضرورت پر زور دیا۔
پارٹی کے چیف کوآرڈینیٹر ناصرالدین پٹواری نے غلامانہ خارجہ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے مظلوم اقوام سے عالمی اتحاد کا اعلان کیا جبکہ جنوبی کوآرڈینیٹر حسنات عبداللہ نے کہا کہ کوئی بھی دھمکی این سی پی کی تحریک کو روک نہیں سکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیوروکریسی ڈیجیٹل ترقی عدالتی نظام غذائی خودمختاری قدرتی وسائل ناہید اسلام نیشنل سٹیزن پارٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیوروکریسی ڈیجیٹل ترقی عدالتی نظام غذائی خودمختاری قدرتی وسائل ناہید اسلام نیشنل سٹیزن پارٹی اعلان کیا بنگلہ دیش کا اعلان جائے گا کے قیام کیا گیا کے لیے گیا ہے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔