پی ٹی آئی منگل سے ملک گیر آئینی تحریک کا آغاز کررہی ہے، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
صوابی سے جاری اپنے ایک بیان میں راہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ یہ تحریک پر امن اور قانون و آئین میں دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی، بانی پی ٹی آئی کو 2 سال قبل 5 اگست کے روز گرفتار کیا گیا تھا، اسی دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ راہنما تحریک انصاف اسد قیصر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی منگل سے ملک گیر پرامن اور آئینی تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔ صوابی سے جاری اپنے ایک بیان میں اسد قیصر کا کہنا تھا کہ یہ تحریک پر امن اور قانون و آئین میں دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی، بانی پی ٹی آئی کو 2 سال قبل 5 اگست کے روز گرفتار کیا گیا تھا، اسی دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ضمانت پر رہائی دی جائے، یہ اُن کا قانونی و آئینی حق ہے، عدالتیں آزاد نہیں بلکہ حکومت کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں، ہم کسی قسم کے ریاستی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔
راہنما تحریک انصاف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسی کسی کارروائی کی اجازت نہ دیں، بانی پی ٹی آئی کو انصاف دیا جائے اور تمام زیرِ التوا مقدمات کا جلد فیصلہ کیا جائے۔اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ 5 تاریخ کو پاکستان کے پرچم سمیت سفید پرچم و پارٹی پرچم لائیں گے، ہم پر امن ہیں اور اگر کسی نے شرارت کی تو کارکن جواب دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔