تمل ناڑو کی کانگریس کی لوک سبھا رکن پارلیمنٹ آر سدھا کا سونا کا ہار مبینہ طور پر نئی دہلی میں پولش سفارتخانے کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار نے چھین لیا، جب وہ صبح کی واک پر نکلیں تھیں۔

آر سدھا نے یونین ہوم منسٹر امت شاہ کو لکھے گئے خط میں اس واقعے کو چونکا دینے والا قرار دیا اور کہا کہ یہ علاقہ ’ہائی سیکیورٹی زون‘ ہے۔ کانگریس رہنما نے اپنی شکایت میں بتایا کہ وہ راجیہ سبھا کی ایک دوسری خاتون رکن پارلیمنٹ کے ساتھ چہل قدمی کے لیے گئی تھیں جب یہ واقعہ پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: نریندر مودی حکومت صحافیوں کا ڈیٹا کیسے چوری کر رہی ہے؟

انہوں نے بتایا کہ 4 اگست 2025 کو، میں اور راجیہ سبھا کی محترمہ راجاتی تمل ناڑو ہاؤس سے واک کے لیے نکلے تھے۔ صبح تقریباً 6:15 سے 6:20 کے درمیان پولش سفارتخانے کے گیٹ 3 اور 4 کے قریب ایک شخص، جو مکمل ہیلمٹ پہنے تھا اور چہرہ ڈھانپا ہوا تھا، ایک سکوٹی پر میرے سامنے آیا اور میرا سونا کا ہار چھین کر فرار ہو گیا۔

رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ اس حملے کے دوران انہیں گردن پر چوٹیں آئیں اور ان کا لباس بھی پھٹ گیا۔ بعد ازاں، انہوں نے دہلی پولیس کی ایک موبائل گشت گاڑی دیکھی اور مدد کے لیے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مشورہ دیا گیا کہ ہم شکایت تحریری طور پر درج کروائیں اور متعلقہ پولیس اسٹیشن جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: بینک مینیجر نے میرے اکاؤنٹ سے 16کروڑ روپے کیسے چوری کیے؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک خاتون اس ہائی سیکیورٹی زون میں بھی محفوظ نہیں ہے تو پھر کہاں ہوگی؟ ’میں نے گردن پر چوٹیں لیں، چار سوورین سے زیادہ وزن کا سونا کا ہار کھو دیا، اور اس واقعے سے شدید ذہنی اذیت میں ہوں‘۔

آر سدھا نے درخواست کی کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مجرم کو تلاش کر کے گرفتار کیا جائے۔ سدھا نے چانکیہ پوری پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے، اور پولیس نے بتایا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا انڈیا میں چوری بھارتی رکن پارلیمنٹ نئی دہلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈیا انڈیا میں چوری بھارتی رکن پارلیمنٹ نئی دہلی رکن پارلیمنٹ بتایا کہ کا ہار کے لیے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان