عتیقہ اوڈھو کا متنازع بیانات پر دو ٹوک مؤقف: ’’ہر بات کو تماشا نہ بنایا جائے‘‘
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اور باوقار اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے متنازع بیانات کا بے باکی سے دفاع کیا ہے، اور انہیں غلط سیاق و سباق میں پیش کیے جانے پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔ عتیقہ اوڈھو اپنی بات چیت کے دوران اس وقت تنقید کی زد میں آئیں جب انہوں نے ارینج میرج سے جُڑی الجھنوں اور اداکار علی رضا کے سینے کے بالوں پر تبصرہ کیا۔ تاہم اب اداکارہ نے واضح کیا ہے کہ ان کا مقصد کسی کی تضحیک یا تنقید ہرگز نہیں تھا، بلکہ صرف فطری تجسس اور اصلاح کی نیت تھی۔ انہوں نے کہا میں نے یہ بات انسانی تجسس کے تحت کہی تھی کہ جب دو اجنبی ایک رات پہلے تک ایک دوسرے کو نہیں جانتے وہ شادی کے بعد اگلے دن میاں بیوی کیسے بن جاتے ہیں؟ اس سوال نے بہت سے لوگوں کو جھنجھوڑا، اور کئی افراد نے مجھے انسٹاگرام پر اپنے تجربات بھی بتائے علی رضا سے متعلق بیان پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے صرف اتنا کہا کہ ٹی وی اسکرین پر مرد اداکاروں کے بال دار سینے دکھانا مناسب نہیں لگتا۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں ان نوجوان اداکاروں کو نیچا دکھا رہی ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سینئر ہونے کے ناطے نوجوان فنکاروں کے لیے رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں اور ان کے تبصرے اصلاح کی نیت سے ہوتے ہیں، نہ کہ تنقید یا مذاق کے لیے۔ ’’سوشل میڈیا پر ہر بات کو مذاق یا تنازع بنا دیا جاتا ہے، جو افسوسناک ہے،‘‘ عتیقہ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ انٹرویو کے دوران ان کا انداز گفتگو صاف، مدلل اور باوقار رہا، جس میں انہوں نے نہ صرف اپنے بیانات کی وضاحت کی بلکہ سوشل میڈیا پر غیر ضروری ہنگامہ آرائی پر بھی کھل کر بات کی۔ عتیقہ اوڈھو کے اس بیان کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِعمل موصول ہو رہا ہے، تاہم ان کے صاف گو اور بااعتماد لہجے نے ایک بار پھر انہیں ایک ذمہ دار فنکار کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عتیقہ اوڈھو سوشل میڈیا انہوں نے
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔