بھارت کے ایک اور معروف مزاحیہ اداکار کسمپرسی کے عالم میں انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
ساؤتھ انڈین موویز کے سپر اسٹارز رجنی کانت، کمل ہاسن، اجیت، سوریا اور وجے کے ساتھ متعدد فلموں میں کام کرنے والے مدھن بوب کے آخری ایام نہایت کسمپرسی کے عالم میں گزرے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تامل فلم انڈسٹری کے اداکار ایس کرشنا مورتھی نے اپنی زندگی کے 40 سال اس انڈسٹری وک دیئے وہ فلمی دنیا میں مدھن بوب کے نام سے جانے جاتے تھے۔
تامل فلموں کا لازمی جز کہلائے جانے والے مزاحیہ اداکار مدھن بوب عرصہ دراز سے کینسر کے مرض میں مبتلا اور صاحبِ فراش تھے اور گزشتہ شب گھر میں ہی انتقال کرگئے۔
مدھن بوب نے چار دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں مزاحیہ اور منفرد کرداروں کے ذریعے اپنا نام اور مقام بنایا۔
ان کے پُرمزاح مکالمے، چہرے کے تاثرات اور برجستہ اداکاری نے انہیں تامل فلموں کے کامیڈی کنگز میں شامل کر دیا تھا۔
انہوں نے اپنے کیریئر کی شروعات 1980 کی دہائی میں کی اور 41 برس تک فلمی شائقین کو محظوظ کرتے رہے۔
مدھن بوب کی مشہور فلموں میں "تھینالی" میں ڈائمنڈ بابو اور "فرینڈز" میں منیجر سندریسن کا کردار خاص طور پر یادگار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔