پی ٹی آئی کے مقامی عہدیداران کا پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
راولپنڈی (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف راولپنڈی ڈویژن کے مقامی عہدیداران نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے تحریک انصاف راولپنڈی سٹی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری ساجد قریشی نے 15 رکنی عہدیداران کے ہمراہ ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے ساجد قریشی کو دیگر ارکان کو پیپلز پارٹی میں خوش آمدید کہا اور پارٹی مفلر پہنائے۔
پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والوں میں حامد عباسی، بابر محمود، جاوید اقبال، ڈاکٹر شکیل، علی رضا،امجد جاوید، جہانگیر خان، حمزہ عباسی، بدر ستی، راجہ تنویر، راجہ خالد، راجہ حفیظ اور سردار ندیم شامل ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے، پیپلز پارٹی کی مقبولیت کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں اس میں شامل ہو رہے ہیں۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ پی ٹی آئی راولپنڈی کے عہدیداران کی پیپلزپارٹی میں شمولیت سے راولپنڈی میں پی پی پی مزید مضبوط ہوگی۔
سردار سلیم حیدر خان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ملک کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں دیں ، پیپلزپارٹی شہیدوں کی جماعت ہے، اگلا وزیر اعظم پیپلز پارٹی کا ہوگا اوربلاول بھٹو وزیر اعظم بنیں گے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی پسے ہوئے طبقے کی نمائندہ جماعت ہے اور اس نے ہمیشہ غریب عوام کے لئے آواز اٹھائی ہے،حکومت کو عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی بالخصوص صوبہ پنجاب کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سردار سلیم حیدر پیپلز پارٹی گورنر پنجاب پارٹی میں
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔