بی این پی کی ایم ڈبلیو ایم کے لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اپنے بیان میں بی این پی نے کراچی سے ریمدان بارڈر تک لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت دی کہ ایم ڈبلیو ایم کے احتجاج کے شرکاء کا زیرو پوائنٹ اوتھل سے گوادر تک بھرپور استقبال کریں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے زائرین کے زمینی سفر پر پابندی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے کراچی سے ریمدان تک لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ بی این پی کے مرکزی اعلامیہ میں کہا گیا کہ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی قیادت میں 6 اگست کو کراچی سے ریمدان بارڈر تک لانگ مارچ جو زائرین کو ایران اور عراق بذریعہ سڑک سفر سے روکنے کے خلاف کی جا رہی ہے، اسکی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ پارٹی نے مکران ڈویژن کے کارکنوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے احتجاج کے شرکاء کا زیرو پوائنٹ اوتھل سے گوادر تک بھرپور استقبال کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ بی این پی ایک قوم پرست و ترقی پسند جمہوری جماعت ہے۔ پارٹی موجودہ غیر جمہوری حکومت کو یہ اختیار نہیں دے سکتی کہ زائرین کو بذریعہ سڑک سفر سے روکا جائے۔ مسلمانوں کے تمام فرقے اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ایران، عراق اور مقدس مقامات کی زیارات کے لئے جاتے ہیں۔ اس پر پابندی انتہائی نامناسب ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ زائرین سفری سہولیات اور سکیورٹی فراہم کی جاتی۔ بی این پی نے اپنے کارکنان کو ہدایت دی کہ وہ ایم ڈبلیو ایم کی قیادت سے رابطہ میں رہیں اور لانگ مارچ کے شرکاء کا بھرپور استقبال کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم ڈبلیو ایم لانگ مارچ بی این پی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔