شیعہ تنظیموں کا زائرین کے زمینی راستے کے حصول کیلئے احتجاج کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
اسلام آباد: شیعہ تنظیموں نے زائرین کے زمینی راستے کے حصول کیلئے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت اور ملت جعفریہ میں زائرین کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد شیعہ تنظیموں نے زائرین کے زمینی راستے کے حصول کیلئے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے.ذرائع کے مطابق ملک گیر احتجاج سمیت دیگر فیصلوں کا اعلان پریس کانفرنس میں آج شام تک کیا جائے گا، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما آج شام پریس کانفرنس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین نے پہلے ہی احتجاجی مارچ کا اعلان کردیا ہے.
واضح رہے کہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کا دو روزہ طویل مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ختم ہوگیا، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما آج شام پریس کانفرنس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔
یاد رہے کہ 27 جولائی 2025 کو پاکستانی حکومت کی جانب سے اربعین کے لیے زمینی راستے سے زیارات پر ایران اور عراق جانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر وفاقی وزیر داخلہ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ زائرین صرف ہوائی جہاز کے ذریعے زیارات پر ایران اور عراق جا سکیں گے. زائرین کو روڈ کے ذریعے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ یہ فیصلہ عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا اور پابندی کا فیصلہ وزارت خارجہ، حکومت بلوچستان اور سیکیورٹی اداروں سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: زمینی راستے زائرین کے احتجاج کا کا فیصلہ کا اعلان
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔