حکومت کا27ویں آئینی ترمیم کیلئے پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
حکومت کا27ویں آئینی ترمیم کیلئے پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)حکومت نے اٹھارہویں آئینی ترمیم میں سقم دور کرنے کی ٹھان لی۔ قومی اسمبلی کے رواں سیشن کے دوران پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اتفاق رائے ہونے کی صورت میں ہی ستائیسویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اٹھارہویں آئینی ترمیم میں سقم دور کرنے کیلئے پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا۔ مشاورت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران جاری رہے گی۔پہلے مرحلے میں پیپلز پارٹی سے مشاورت کی جائے گی، پیپلزپارٹی کی رضامندگی کی صورت میں دیگر جماعتوں سے بات ہوگی، اتفاق رائے ہوا تو حکومت 27 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں لائے گی۔ مکمل اتفاق رائے ہونے تک مذاکرات کی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق 18 ویں ترمیم میں بہت سے امور صوبوں کو ملے مگر عملدرآمد نہیں ہوا، صوبے کئی وزارتوں کے آج تک قواعد و ضوابط ہی طے نہیں کرسکے۔ذرائع کے مطابق حکومت صوبوں کو مالی خودمختاری دینے کے معاملے پر بھی ترمیم کی خواہاں ہے، بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات اور این ایف سی میں وفاق کا حصہ بڑھانے کی تجویز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی مجوزہ تجاویز پر غور کررہی ہے۔ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت درکار ہے، پیپلز پارٹی ساتھ دے تو قومی اسمبلی میں حکومت کے نمبر پورے ہوجائیں گے۔ حکومتی اتحاد کو سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کیلیے جے یو آئی ف کی حمایت درکار ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین میں نیو انرجی گاڑیوں کی مارکیٹ میں موجودگی کی شرح 44.3 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے: وزیراعظم حقائق کی جانچ سپریم کورٹ کا کام نہیں، قانون کی خلاف ورزی کو دیکھیں گے: چیف جسٹس سی ڈی اے ، نا کوئی میرٹ نا کوئی ضابط،، جس پر دل آیا عہدہ دیدیا، چالیس ہزار بورڈ میٹنگ ، دو لاکھ ماہانہ... راولپنڈی میں غیرت کے نام پر شادی شدہ لڑکی کے قتل کی تفتیش میں مزید انکشافات جعفر ایکسپریس پر ایک بار پھر حملہ، ٹرین کو دوزان ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا دورۂ پاکستان اچانک ملتوی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ پیپلز پارٹی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔