کانگریس کے قومی خزانچی نے کہا کہ کانگریس کے پانچ بنیادی اصول ہیں آئین کی بالادستی، سماجی انصاف، شمولیتی ترقی، تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور وفاقی ڈھانچے کا تحفظ۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قومی خزانچی اجے ماکن نے کانگریس کی سالانہ قانونی کانکلیو 2025ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی آئینی اقدار آج شدید خطرے میں ہیں اور اس نظریاتی جنگ میں وکلاء کو سب سے آگے آنا ہوگا۔ کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے نے کہا کہ کانگریس کی بنیاد پانچ بنیادی اصولوں پر ہے۔ اجے ماکن نے کہا کہ کانگریس کے پانچ بنیادی اصول ہیں آئین کی بالادستی، سماجی انصاف، شمولیتی ترقی، تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور وفاقی ڈھانچے کا تحفظ۔ ماکن نے وضاحت کی کہ ان میں آئینی بالادستی وہ "چھتری" ہے جو باقی تمام اقدار کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا نظریہ صرف سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ایک سماجی عہد ہے جس کی جڑیں آئین میں پیوستہ ہیں۔

اجے ماکن نے کانگریس کے قانونی شعبے کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے پورے دن کے سیشنز انہی اصولوں کے تحت ترتیب دیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی پارٹی نے اتنے وسیع پیمانے پر وکلاء کو نظریاتی گفتگو کے لئے جمع کیا ہو، مجھے بتایا گیا ہے کہ تقریباً ڈھائی ہزار وکلاء پورے ملک سے یہاں موجود ہیں۔ اجے ماکن نے کہا کہ جس تیزی سے ملک کی آئینی اقدار کو ختم کیا جا رہا ہے، اس کے خلاف مزاحمت صرف وکلاء ہی نہیں بلکہ کانگریس کی مجموعی فکر کی بقاء کا سوال ہے۔ آخر میں انہوں نے راہل گاندھی، سونیا گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور پرینکا گاندھی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس جدوجہد میں کانگریس اور وکلا کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔

اس دوران کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ آئین صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ ہندوستان کی روح ہے اور اس روح پر حملہ کرنے والے طاقتوں کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا ہندوستان جمہوری اداروں کی کمزوری، عدالتی خودمختاری پر سوالات، اور وفاقی ڈھانچے کی بے توقیری کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں وکلاء کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کانکلیو میں اپنے خطاب کے دوران الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2024ء کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج میں بے ضابطگیاں اور مشینوں سے چھیڑچھاڑ کے ٹھوس ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں، ہم نے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن ہی شفاف نہیں ہوں گے تو جمہوریت کا تصور بھی ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے وکلاء سے اپیل کی کہ وہ آئینی انصاف کے لیے صفِ اول میں کھڑے ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کانگریس انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ کا اجے ماکن نے کانگریس کی کانگریس کے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن