گلگت میں کم از کم ایک میڈیکل کالج قائم ہو جانا چاہیے، ڈاکٹر مشتاق خان
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251031-08-7
مظفرآباد (صباح نیوز) جما عت اسلامی آزاد کشمیرگلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتا ق خان نے کہاکہ گلگت بلتستان کے بہادر اور مجاہد عوام نے جہاد کے ذریعے ڈوگرہ سامراج سے یہ خطہ آزاد کرایا، یوم آزادی گلگت بلتستان کے موقع پر پوری قوم کو آزادی مبارک، یوم آزادی گلگت بلتستان اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ کم از کم اب تو ایک میڈیکل کالج اس خطے میں قائم ہو جانا چاہیے، آج کا یوم آزادی اس بات کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ گلگت اور بلتستان اور ساتھ دیامر کے تینوں ڈویژن میں الگ الگ یونیورسٹیز کا قیام عمل میں آجائے۔ انہوں نے کہا کہ میں تحریک آزادی کشمیر کے جملہ شہداء کو اور تحریک آزادی گلگت بلتستان کے جتنے شہداء ہیں اورر جتنے مجاہدین اور جتنے عوام نوجوان اور خواتین جنہوں نے گلگت اور بلتستان کی آزادی کی صبح کو یقینی بنانے کیلیے اپنے آپ کو قربان کیا آج جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی طرف سے ان سب کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں ان کے بلندی درجا ت کیلیے دعاگو ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔