ترسیلات اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے سے روپے کی قدر میں استحکام برقرار
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: گزشتہ ہفتے ملکی زرمبادلہ مارکیٹ میں روپے کی قدر میں استحکام کا رجحان غالب رہا، جس کی بنیادی وجوہات میں ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے سرپلس میں بدل جانا شامل ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 11 کروڑ ڈالر کے سرپلس میں تبدیل ہوا، جس نے روپے کو تقویت دی اور ڈالر کو مزید کمزور کیا۔
اس دوران انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں کمی دیکھی گئی۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 9 پیسے کمی کے ساتھ 281.
برطانوی پاؤنڈ، یورو، ریال اور درہم جیسی کرنسیوں کی قدر میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاؤنڈ 3.31 روپے گر کر 374.05 روپے جبکہ یورو 2.67 روپے کمی کے بعد 326.42 روپے پر آگیا۔ اسی طرح ریال اور درہم کی قدر بالترتیب 74.93 اور 76.50 روپے پر بند ہوئی۔
ماہرین کے مطابق روپے کی مضبوطی میں کئی مثبت عوامل نے کردار ادا کیا۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں انفلوز بڑھنے، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے اگلی قسط کی منظوری کی توقعات، اور ایس آئی ایف سی کے تعاون سے توانائی و معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافے نے مارکیٹ پر خوشگوار اثرات ڈالے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایف سی کے ساتھ ریکوڈک منصوبے سے متعلق پیش رفت اور ڈالر اسمگلنگ کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن نے بھی مارکیٹ میں طلب کو محدود رکھا، جس کے نتیجے میں سپلائی بہتر اور روپے کی حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ میں اضافہ ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں کی قدر میں روپے کی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔