عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں 5 دن بعد سونا پھر سے مہنگا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں 5 دن بعد سونا پھر سے مہنگا ہوگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 October, 2025 سب نیوز
کراچی (آئی پی ایس) عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں مسلسل 5 روز کی کمی کے بعد سونے کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیولرز اینڈ ایسوسی ایشن کےمطابق سونے اور چاندی کی مسلسل گرتی قیمت کو بریک لگ گیا،مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت 1800 روپے بڑھ کر 433662 روپےہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ 10گرام سونےکی قیمت 1543 روپے کے اضافے سے 371795 روپے ہوگئی ہے،فی تولہ چاندی کی قیمت 57 روپے بڑھ کر 5124 روپے ہوگئی۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 18 ڈالر مہنگا ہوکر 4113 ڈالر پر چلاگیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر سونے کی قیمت میں آج بھی کمی ، فی تولہ مزید سستا ہوگیا چینی کمپنیوں کے جائز حقوق و مفادات کا مضبوط تحفظ کیا جائے گا ، چینی وزارت تجارت ایک ہفتے میں ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں 4کروڑ 30لاکھ ڈالر کا اضافہ قطر کا 3ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعادہ، اقتصادی اور تیکنیکی تعاون کے پروٹوکولز پر دستخط سونے کی قیمت میں آج بھی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ صنعتی بجلی اور گیس کنکشنز کی تبدیلی کیلئے نیا طریقہ کارمتعارفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان