پاکستان نے چین کے اشتراک سے جدید ایکسرے مشین تیار کر لی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251025-08-20
ؔکراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں پہلی بار جدید ایکسرے مشین تیار کرلی گئی، عالمی مارکیٹ میں اس مشین کی قیمت20 سے25 ملین روپے ہے۔ پاکستان نے میڈیکل سائنس کے شعبے میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔ چین کے اشتراک سے تیار کی گئی اس مشین کو “I Care
50Xکا نام دیا گیا ہے، جس کے تمام پرزے مقامی مارکیٹ میں بھی دستیاب ہوں گے۔ یہ مشین ہیلتھ ایشیا ایکسپو2025ء میں توجہ کا مرکز بنی رہی، جہاں شرکا کو اس کی خصوصیات اور افادیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ عالمی مارکیٹ میں اس مشین کی قیمت20 سے25 ملین روپے ہے جبکہ پاکستان میں اس کی تیاری پر صرف3 سے4 ملین روپے لاگت آئی ہے۔ ماہرین نے کہاکہ مذکورہ ایکسرے مشین جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو صرف10 سیکنڈ میں ایکسرے کی فوٹیج فراہم کرتی ہے جبکہ اس کی ریڈیالوجی شعاعوں کی شدت بھی کم ہے، جس سے مریضوں کو محفوظ تشخیص ممکن ہوتی ہے۔ یہ منصوبہ2020ء میں شروع کیا گیا تھا اور تقریباً 5 سال کی محنت کے بعد اس کامیابی کو حاصل کیا گیا۔ ملک کے مختلف اسپتالوں میں اس مشین کا استعمال شروع ہو چکا ہے، جو پاکستان کی میڈیکل انڈسٹری کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔