اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان برقرار، انڈیکس میں 2 ہزار پوائنٹس کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث مندی کا سلسلہ جاری رہا۔
سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث کے ایس ای-100 انڈیکس تقریباً 2 ہزار پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:
کاروباری سیشن کے دوران مارکیٹ میں مسلسل فروخت کا رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس ایک موقع پر 164,395.
Market Close Update: Negative Today! ????
???????? KSE 100 ended negative by -1,962.9 points (-1.18%) and closed at 164,590.4 with trade volume of 485 million shares and value at Rs. 31.26 billion. Today's index low was 164,395 and high was 166,720. pic.twitter.com/ubRiDdKwkx
— Investify Pakistan (@investifypk) October 23, 2025
دن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,962.86 پوائنٹس یعنی 1.18 فیصد کمی کے بعد 164,590.41 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ماہرین کے مطابق، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بنیادی طور پر آئندہ رول اوور ویک سے قبل منافع سمیٹنے کے رجحان اور بینک الحبیب و بینک الفلاح کے مایوس کن مالی نتائج کے باعث دیکھنے میں آیا۔
رپورٹ کے مطابق بینک الحبیب، حبیب میٹروپولیٹن بینک، لکی سیمنٹ، حبکو اور اینگرو نے مجموعی طور پر انڈیکس سے 1,019 پوائنٹس کم کیے۔
مزید پڑھیں:
گزشتہ روز یعنی بدھ کو بھی مارکیٹ مندی کا شکار رہی تھی جب کے ایس ای 100 انڈیکس 793.56 پوائنٹس یعنی 0.47 فیصد کمی کے ساتھ 166,553.28 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مجموعی طور پر جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ میں لین دین کا حجم 1.50 ارب شیئرز رہا جو گزشتہ روز کے 1.56 ارب شیئرز سے کم تھا۔
شیئرز کی کل مالیت 49.52 ارب روپے رہی جو گزشتہ سیشن کے 55.06 ارب روپے سے کم ہے۔
مزید پڑھیں:
ورلڈکال ٹیلی کام 162.19 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والا اسٹاک رہا، اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ 138.24 ملین اور ٹیلی کارڈ لمیٹڈ 90.64 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔
474 کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوئی جن میں سے 147 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 291 میں کمی اور 36 کے نرخ مستحکم رہے۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو ایشیائی مارکیٹس میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں:
امریکی اسٹاک مارکیٹس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کمزور نتائج اور امریکا کی جانب سے روس و چین پر نئی پابندیوں نے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی۔
ایم ایس سی آئی کے مطابق ایشیا پیسیفک کے شیئرز میں 0.3 فیصد کمی دیکھی گئی، جب کہ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.5 فیصد گر گیا۔
ہانگ کانگ میں چینی اسٹاکس 0.4 فیصد نیچے آئے، جب کہ رپورٹس کے مطابق امریکا چین کے خلاف سافٹ ویئر ایکسپورٹس پر نئی پابندیاں لگانے پر غور کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مطابق کے ساتھ
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔