سونا مزید سستا:عالمی مارکیٹ میں 20 ڈالر فی اونس، پاکستان میں 2 ہزار روپے فی تولہ کمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں جمعہ کے روز سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونا 20 ڈالر سستا ہو کر 4 ہزار 95 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔ عالمی منڈی میں اس کمی کا براہِ راست اثر مقامی صرافہ بازاروں پر بھی پڑا، جہاں فی تولہ سونے کی قیمت 2 ہزار روپے گھٹ گئی۔
پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا اب 4 لاکھ 31 ہزار 862 روپے فی تولہ میں دستیاب ہے، جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی ایک ہزار 714 روپے کی کمی کے بعد نیا ریٹ 3 لاکھ 70 ہزار 252 روپے ہوگیا ہے۔ صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق طلب میں کمی اور عالمی سطح پر قیمتوں میں دباؤ کے باعث ملکی مارکیٹ میں بھی سونا نیچے جا رہا ہے۔
اسی طرح چاندی کے نرخوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ فی تولہ چاندی 43 روپے کمی کے ساتھ 5 ہزار 67 روپے میں فروخت ہو رہی ہے جب کہ 10 گرام چاندی کی قیمت 37 روپے کم ہو کر 4 ہزار 344 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونا عالمی سطح پر 35 ڈالر سستا ہوا تھا جب کہ پاکستانی مارکیٹ میں فی تولہ قیمت میں 3 ہزار 500 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں فی تولہ کی قیمت
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔