WE News:
2026-06-03@03:53:52 GMT

الیکٹرک گاڑیوں کا عالمی رجحان، پاکستان پیچھے کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

الیکٹرک گاڑیوں کا عالمی رجحان، پاکستان پیچھے کیوں؟

دنیا بھر میں تیل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں تیزی آئی ہے، تاہم پاکستان میں یہ رجحان اب بھی محدود ہے۔ حکومت اب تک صرف الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے پالیسی تشکیل دے سکی ہے، جبکہ گاڑیوں کے لیے جامع ای وی پالیسی تاخیر کا شکار ہے۔

الیکٹرک موٹرسائیکل پر سبسڈی، 9 ہزار روپے ماہانہ قسط

سیکریٹری صنعت سیف انجم نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے پالیسی مکمل کر لی ہے۔

2.

5 لاکھ روپے مالیت کی الیکٹرک موٹرسائیکل پر 80 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی، جس سے ماہانہ 9 ہزار روپے قسط پر موٹرسائیکل حاصل کی جا سکے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان چین کی مدد سے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں پیشرفت کا خواہاں

17 بینک اس اسکیم میں شامل ہیں۔ مکمل ادائیگی کے بعد موٹر سائیکل خریدار کے نام پر منتقل ہو گی۔

نئی ای وی پالیسی 2026 تا 2030، 100 ارب روپے کی سبسڈی

سیف انجم کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی (2026-2030) کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت پانچ سال میں 100 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

پالیسی سے سالانہ ایک ارب ڈالر تک تیل کی درآمدات میں بچت اور 45 کروڑ ڈالر کے طبی اخراجات میں کمی کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں: چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

2030 تک 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز کا منصوبہ

حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک 3 ہزار ای وی چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں، جنہیں نیپرا ریگولیٹ کرے گا۔ ای وی چارجنگ کے لیے بجلی کا نرخ 92 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 39 روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے۔

ایک موبائل ایپ بھی تیار کی جا رہی ہے تاکہ صارفین کو قریبی چارجنگ اسٹیشن کی معلومات میسر ہوں۔ مزید برآں، اب ہر نئے پیٹرول پمپ پر چارجنگ اسٹیشن بنانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے ٹیرف میں بڑی کمی کا اعلان

آئی ایم ایف کا ٹیکس بڑھانے کا دباؤ

اجلاس میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے تجویز دی ہے کہ ودہولڈنگ ٹیکس بیٹری سائز کے بجائے گاڑی کی مارکیٹ ویلیو پر عائد کیا جائے۔

اس کے ساتھ ٹیکس کی قابل حد کو 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم آئی ایم ایف اس پر فی الحال متفق نہیں ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹرک گاڑیاں پاکستان پیچھے کیوں؟ سیکریٹری صنعت سیف انجم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نئی الیکٹرک گاڑیاں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکٹرک گاڑیاں سیکریٹری صنعت سیف انجم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نئی الیکٹرک گاڑیاں الیکٹرک گاڑیوں آئی ایم ایف کے لیے

پڑھیں:

فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔

ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟ 

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ