چند ننھی منی سوچ بدل دینے والی کہانیاں
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
علامہ رحمت اللہ ارشد بہاولپور کے معروف سیاستدان، دانشور گزرے ہیں۔ یہ ستر کے عشرے میں پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف رہے ہیں۔ وہ اسمبلی اجلاس کے دنوں میں لاہور آ کر رہا کرتے اور اپنے علاقے کے نوجوان صحافیوں کے ساتھ خصوصی شفقت فرماتے۔ مجھے سینیئر صحافی، کالم نگار، اینکر سید ارشاد احمد عارف صاحب نے رحمت اللہ ارشد کا ایک واقعہ سنایا۔ بات ایسی تھی جو دل میں نقش ہوگئی، کسی حد تک اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کی۔
ارشاد عارف صاحب کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا، ہم دو تین نوجوان صحافی علامہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے چائے منگوا لی، گپ شپ ہوتی رہی۔ پھر رحمت اللہ ارشد کہنے لگے، ’آپ نوجوان ہیں، ابھی عملی زندگی کا طویل عرصہ طے کرنا ہے۔ دو باتوں کا خاص طور پر دھیان کرنا۔ ایک تو کسی محفل میں جا کر سب سے آگے کی نشست پر بیٹھنے کی کوشش کبھی نہ کرنا۔ پیچھے یا درمیان میں کسی مناسب جگہ ڈھونڈ کر بیٹھنا۔ محفل جلد آپ کو آپ کا مناسب حصہ یا حق دے دیتی ہے۔ اگر آپ آگے آنے کے قابل ہوں گے تو آپ کو میزبان یا کوئی نہ کوئی سینیئر، بزرگ آگے آنے کا کہہ دے گا، تب یہ عزت افزائی ہوگی۔ ورنہ اس کے قوی امکانات ہیں کہ آگے بیٹھنے پر آپ کو اٹھا کر پیچھے بھیج دیا جائے، اس میں آپ کی بے عزتی اور بے توقیری کا پہلو ہوگا۔‘
علامہ رحمت اللہ ارشد پھر کہنے لگے، ’دوسری یہ بات یاد رکھیں کہ کہیں بھی جائیں، دوسرا آپ کا سرتاپا جائزہ لیتا ہے، یہ انسانی نفسیات ہے کہ سر اور پیر کو بغور دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے اگر سر پر کوئی ٹوپی، پگڑی وغیرہ پہنی ہے (جیسا کہ تب عام رواج تھا) تو اسے صاف ستھرا، خوبصورت اور بے شکن ہونا چاہیے۔ اگر سر پر ٹوپی نہیں تو بال قرینے سے ترشے ہوئے کنگھی شدہ ہونے چاہییں۔ بکھرے، بڑے، بے ہنگم بال بہت منفی تاثر بناتے ہیں۔ اسی طرح جوتا بھی کوشش کی جائے کہ اچھا اور دیدہ زیب ہو۔ اگر نیا جوتا افورڈ نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے صاف ستھرا، پالش شدہ ضرور ہونا چاہیے، اس سے بہت اچھا امپریشن پڑتا ہے۔‘
ارشاد عارف صاحب نے برسوں پہلے یہ واقعہ سنایا، سن کر بہت اچھا لگا اور سوچتا رہا کہ کیسے ہمارے پرانے بزرگ نوجوانوں کی تربیت کا طریقہ ڈھونڈا کرتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے تجربات کا نچوڑ اگلی نسل کو منتقل کر دیتے، بے شک ان کا کوئی ذاتی یا خاندانی تعلق نہ بھی ہو۔
اگلے روز ایک خوبصورت حکایت پڑھی، اس میں بھی آگے آنے کے بجائے پیچھے بیٹھنے کی بات کی گئی، مگر ایک بالکل ہی مختلف زاویے سے۔ حکایت کہتی ہے :
ایک آدمی ہر محفل میں آخری صف میں بیٹھتا تھا۔
پوچھا گیا کیوں؟
کہا، ’وہاں وقت آہستہ گزرتا ہے، کوئی جلدی نہیں کرتا۔‘
نتیجہ: ہم پہلی صف کے چکر میں اتنے بھاگتے ہیں کہ زندگی کے اصل مناظر پیچھے رہ جاتے ہیں۔
انٹرنیٹ نے ہم کتابوں کے متلاشی لوگوں کے لیے بہت آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ بہت سی ویب سائٹس ہیں جہاں پر مفت مواد میسر ہوجاتا ہے۔ کئی واٹس ایپ یا فیس بک گروپس بھی ہیں جہاں سے پرانی، آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کی ای بکس مل جاتی ہیں۔ آج کل میں ایسی کتابوں کی تلاش میں رہتا ہوں۔ چند روز قبل نیٹ پر حکایات کا ایک خزانہ ملا۔ مختلف زبانوں، تہذیبوں کی حکایات کے حوالے سے تین چار کتابیں ڈاؤن لوڈ کی ہیں، انہیں پڑھنا کسی شاندار ضیافت سے کم نہیں، چند لفظوں یا تین چار سطروں میں کیسی کمال کی باتیں کہہ دی گئیں۔
اپنے قارئین کے لیے ان میں سے چند حکایات پیش کررہا ہوں۔ ویسے بھی اتوار کو آنے والے کالم میں ہلکا پھلکا مواد ہی سجتا ہے۔ ان کی خوبی اختصار ہے۔ البتہ ہر ایک کے ساتھ ایک اخلاقی سبق جڑا ہوا ہے۔ اسکول کے زمانے میں ہم کہانیاں یاد کرتے کہ اردو، انگریزی دونوں کے پیپرز میں اسٹوری لازمی ہوتی۔ ہر کہانی کا ایک اخلاقی انجام یا مورل ضرور ہوتا۔ تو یہ مورل آف اسٹوری اس بار بھی نتھی ہے، اسے برداشت کیجیے گا۔
نمک اور پانی
استاد نے شاگرد سے کہا۔
’یہ نمک پیالے میں ڈالو اور پیو۔‘
پانی کڑوا ہوگیا۔
پھر نمک جھیل میں ڈال دیا۔
پانی ویسا ہی رہا۔
نتیجہ: نمک وہی، فرق ظرف کا تھا۔
بحث
دو لوگ ایک ہی بات پر لڑ رہے تھے۔
تیسرے نے کچھ نہ کہا اور چلا گیا۔
لوگوں نے پوچھا: ’ہار مان لی؟‘
کہا: ’وقت بچا لیا۔‘
نتیجہ: ہر جنگ جیتنے کے لیے نہیں ہوتی، کچھ صرف یہ دکھانے کے لیے ہوتی ہیں کہ ہمیں کتنی عقل آئی ہے۔
کنواں
ایک شخص کنویں میں گر گیا۔
اوپر والوں نے خوب نصیحت کی۔
ایک نے رسی پھینکی، سب خاموش ہو گئے۔
نتیجہ: زندگی میں اصل فرق بات سمجھانے سے نہیں، ہاتھ بڑھانے سے پڑتا ہے۔
وزن
شاگرد نے کہا: ’زندگی بہت بھاری ہے۔‘
استاد بولا: ’تم نے ہر بات اٹھا لی ہے، چھوڑنا بھی سیکھو۔‘
قرض
ایک شخص کہا: ’میں سب کا احسان مند ہوں۔‘
بزرگ نے کہا: ’تبھی تو آزاد نہیں ہو۔‘
نتیجہ: احسان کا توازن بگڑ جائے تو رشتہ بوجھ بن جاتا ہے۔
ٹوٹا گلدان
ایک گلدان ٹوٹ گیا۔
مالک نے کہا: ’ضائع ہوگیا۔‘
بیٹی نے اس میں پودا لگا دیا۔
نتیجہ: جو خالی ہوتا ہے، وہی کسی کام آتا ہے۔
وقت کی قیمت
تاجر نے کہا: ’وقت پیسہ ہے۔‘
فقیر بولا: ’نہیں، وقت زندگی ہے، پیسہ بس بہانہ۔‘
سچ یہی ہے کہ پیسہ ختم ہو تو کاروبار، وقت ختم ہو تو سب۔
سستا مشورہ
ایک شخص نے بزرگ سے نصیحت مانگی۔
بزرگ نے کہا: ’کم بول۔‘
وہ خفا ہو گیا: ’بس اتنا؟‘
بزرگ مسکرایا: ’اسی لیے سستا ہے، کوئی لیتا نہیں۔‘
چراگاہ
چرواہے سے پوچھا گیا:
’یہ بھیڑیں ہر طرف کیوں پھیلی ہیں؟‘
کہا: ’کیونکہ گھاس یہاں قید نہیں۔‘
نیتجہ: ذہن بھی تب بڑھتا ہے جب خوف سے آزاد ہو۔
سچ
استاد نے شاگرد سے پوچھا:
’روز موبائل کئی گھنٹے دیکھتے ہو، آئینہ کیوں نہیں؟‘
شاگرد بولا: ’آئینہ سچ دکھاتا ہے۔‘
نتیجہ: یہی وجہ ہے کہ ہم زیادہ تر اسکرینیں دیکھتے ہیں، خود کو نہیں۔
دو بلیاں، ایک پیالہ دودھ
دو بلیاں دودھ کے برتن پر لڑ رہی تھیں۔
بزرگ نے دونوں کو بھگا دیا اور دودھ پر ریت ڈال دی۔
لوگوں نے کہا: ’یہ کیا‘
بزرگ نے کہا: ’جب حصے کی جنگ بڑھے تو نعمت ضائع کر دو، لڑائی خود ختم ہوجائے گی۔‘
ہلکا بیگ
مسافر کا سامان بہت بھاری تھا۔
ساتھی نے کہا: ’کچھ چھوڑ دو۔‘
بولا: ’یہ یادیں ہیں، چیزیں نہیں۔‘
بات سچ ہے کہ ماضی وزن بن جائے تو یاد نہیں، بوجھ کہلاتا ہے۔
صحیح سوال
شاگرد: ’میں کامیاب کیوں نہیں ہو رہا؟‘
استاد: ’سوال بدل لو: میں سیکھ کیوں نہیں رہا؟‘
نتیجہ: قسمت سے پہلے نیت کا حساب ہوتا ہے۔
کمبل
فقیر سردی میں کانپ رہا تھا۔
لوگ بولے: ’کمبل کیوں نہیں لی؟‘
کہا: ’جھوٹی تسلیاں کافی تھیں، کمبل رہ گیا۔‘
نتیجہ: ہمدردی اکثر لفظی ہوتی ہے، عملی نہیں۔
تصویر
ایک تصویر بہت خوبصورت تھی، مگر فریم ٹوٹا ہوا۔
لوگ بولے: ’فریم بدل دو۔‘
مالک بولا: ’لوگ تصویر دیکھیں گے، فریم نہیں۔‘
نتیجہ: جو لوگ صرف فریم دیکھتے ہیں، وہ اصل کھو دیتے ہیں۔
خالی صفحہ
لکھاری نے خالی کاغذ دیکھا اور ڈر گیا۔
پھر مسکرا دیا۔
نتیجہ: خالی صفحہ دھمکی نہیں، موقع ہوتا ہے۔
خالی کپ
شاگرد نے کہا: ’میں علم سے بھرنا چاہتا ہوں۔‘
استاد نے اس کا کپ بھرا اور بہانے لگا۔
بولا: ’پہلے یہ خالی کرو۔۔۔ورنہ سچائی جمع ہونے کے بجائے بہہ جائے گی۔‘
دو دروازے
دانشور نے شاگرد سے پوچھا:
’زندگی آسان ہے یا مشکل؟‘
شاگرد نے کہا: ’کبھی آسان، کبھی مشکل۔‘
استاد ہنسا: ’زندگی ایک ہی ہے، دروازہ تم بدلتے رہتے ہو۔‘
چرواہے کی گنتی
چرواہا ہر بھیڑ کے گزرنے پر گنتا تھا۔
کسی نے کہا: ’یہ تو ضرورت سے زیادہ احتیاط ہے!‘
چرواہے نے جواب دیا:
’جو چیزیں کم لوٹتی ہیں، انہیں زیادہ گنا جاتا ہے، یعنی وقت، صحت، بھروسہ۔‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
wenews بزرگ دانشور عامر خاکوانی علامہ رحمت اللہ کہانیاں ننھی منی سوچ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عامر خاکوانی علامہ رحمت اللہ کہانیاں ننھی منی سوچ وی نیوز رحمت اللہ ارشد کیوں نہیں کے ساتھ ہیں کہ کے لیے نے کہا
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔