اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں ترامیم سمیت 9نکاتی ایجنڈے پر غور ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی آج پرسنل بیگیج، ٹرانسفر آف ریذیڈینس اور گفٹ اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں ترامیم سمیت نو نکاتی ایجنڈے پر غور کرے گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج دوپہر ایک بجے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔
اجلاس میں پری شپمنٹ انسپکشن رجیم کی اسٹریم لائننگ کے لیے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترامیم کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ اجلاس میں سونے، طلائی زیورات، قیمتی پتھروں کی درآمد و برآمد کی اجازت دینے پر بھی غور ہوگا۔ سونے و جواہرات اور قیمتی پتھروں کی درآمد و برآمد کی معطلی کے ایس آر او کی واپسی پر بھی غور ہوگا۔
اجلاس میں مختلف وزارتوں و ڈویژنز کے لیے کروڑوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا