امن کی جیت، خوف کی شکست، سندھ میں کچے کے 72 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی کی تقریب میں کلاشنکوف، راکٹ لانچر، اینٹی ائیرکرافٹ گن سمیت دیگر جدید ہتھیار جمع
بدنام زمانہ ڈاکوؤں کا قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان،ان کے سروں کی مجموعی قیمت 6 کروڑ روپے سے زائد تھی
(رپورٹ: عبدالخالق سومرو) امن کی جیت، خوف کی شکست، شکارپور میں ڈاکوؤں کا تاریخی سرینڈر، ریاست کی رٹ بحال ۔سندھ حکومت کی جانب سے ڈاکوؤں کی سرینڈر پالیسی 2025 کی تقریب پولیس لائن شکارپور میں ہوئی، 72 بدنام زمانہ ڈاکوؤں نے رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان۔ تقریب میں ڈاکوؤں کاجمع کرایاگیا جدید اسلحہ بھی رکھا گیا جس میں کلاشنکوف، راکٹ لانچر، اینٹی ائیرکرافٹ گن سمیت دیگر جدید ہتھیارشامل تھے۔ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کی سروں کی مجموعی قیمت 6 کروڑ روپے سے زائد تھی۔ بدنام زمانہ ڈاکو نثار سبزوئی کے خلاف مختلف تھانوں میں 82 مقدمات درج ہیں اس کے سر کی قیمت 3 ملین روپے مقرر تھی۔ لادو تیغانی پر 93 ایف آئی آرز جب کہ سر کی قیمت 2 ملین روپے رکھی گئی تھی۔ سوکھیو تیغانی کے خلاف 49 مقدمات اور حکومت کی جانب سے 6 ملین روپے انعام مقرر تھا۔ سونارو تیغانی کے خلاف 26 مقدمات جب کہ سر کی قیمت 6 ملین روپے مقرر تھی۔ جمعو تیغانی کے خلاف 24 مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر تھی۔ ملن عرف واحد علی عرف واجو تیغانی کے خلاف 29 مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔گلزار بھورو تیغانی کے خلاف 14 مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔ غلام حسین عرف نمو تیغانی کے سر کی قیمت 3 لاکھ روپے مقرر تھی۔ نور دین تیغانی کے خلاف مختلف تھانوں میں 6 مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت 15 لاکھ روپے مقرر تھی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا کہ پولیس اور رینجرز کو پالیسی دی گئی کہ علاقے میں امن ہو ، ڈاکو ہتھیار ڈالیں ، برادریوں کے سربراہوں کے بغیر یہ کام ممکن نہیں تھا ، سرینڈر کرنے والوں کو اچھا شہری بننے کا موقع ملیگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کو قانون کا سامنا کرنا پڑیگا، حکومت چاہتی ہے کہ ڈاکو پرامن شہری بنیں، آج کے بعد کوئی ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ نہیں ہوگی، سرینڈر کرنے والوں سے قانون کے مطابق سلوک کیا جائیگا۔ وزیر داخلہ سندھ نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت کچے کے لوگوں کو نوکریاں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ، بچوں کو تعلیم اور کچے کے علاقے میں راستے بنا کر دینا چاہتی ہے۔ آئی جی سندھ نے کہا امن و امان کی صورتحال بہتر ہورہی ہے، گھوٹکی کاکچیکا علاقہ ابھی تک کلیٔر نہیں ہوسکا ، 2012 میں شروع ہونے والی ہنی ٹریپ کی کارروائیاں اب تک جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت لاکھ روپے مقرر تھی تیغانی کے خلاف ملین روپے ڈاکوو ں
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا تعین اوگرا کی جانب سے کیا گیا ہے جو آج رات 12 بجے سے کل رات 12 بجے تک نافذ العمل ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا۔