Jasarat News:
2026-06-03@04:38:44 GMT

سندھ: کچے کے 72 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251023-08-25
شکارپور (نمائندہ جسارت) کچے کے 72 ٍڈاکوؤں نے وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار کے آگے ہتھیار ڈال دیے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ جو ڈاکو جرم کی دنیا کو نہیں چھوڑیں گے گھر میں گھس کر ماریں گے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پولیس ہیڈکوارٹر گراؤنڈ میں تقریب منعقد ہوئی جس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن ، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصرآفتاب، رینجرز کے کرنل ندیم نے خطاب کیا۔ تقریب میں صوبائی مشیر میر بابل خان بھیو، سابق وفاقی وزیر میر عابد خان بھیو، ایم پی اے محمد عارف خان مہر، ایم این اے، شہر یار خان مہر، سابق ایم این اے، ڈاکٹر محمد ابراہیم جتوئی، ایم پی اے امتیاز احمد شیخ، سردار ذوالفقار علی خان کماریو، میونسپل کمیٹی چیئرمین فیاض محمود شیخ اور دیگر موجود تھے ۔اس موقع پر وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی پالیسی کا ذکر کیا جس کے تحت سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن پر پولیس کام کر رہی ہے اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 282 ڈاکوؤں نے فہرست دی تھی ہتھیار ڈالنے اور خود کو قانون کے حوالے کرنے کے لیے 72ڈاکو پیشہ ہوئے دیگر بھی مرحلے وار پیش ہوں گے، یہ پولیس کی شہادتوں کا نتیجہ ہے ان کا خون رنگ لایا ہے، کسی کی جوڈیشل کلنگ نہیں ہو گی قانون کے مطابق اپنی سزائیں پوری کرنا ہوں گی، خود کو قانون کے حوالے کرنے والوں کی پراپرٹی، خاندان کی حفاظت حکومت کرے گی ، مہر صاحبان اور جتوئی صاحبان کو مشورہ دیا کہ آپ تعاون کریں تاکہ شکارپور، گھوٹکی سکھر اضلاع میں امن قائم کرانے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور یہ روایت اب ختم ہونی چاہیے کہ باپ کے بعد بیٹا ڈاکو بنے حکومت نے پالیسی بنائی ہے ہمیں کسی سے زیادتی نہیں کرنی تاکہ امن جیت جائے۔جو ڈاکو کہتے ہیں کہ حکومت کیا کرے گی اگر پیش ہوں گے اور خود کو قانون کے حوالے کریں گے تو اپنی سزائیں پوری کر کے پھر شرافت کی زندگی گزاریں گے اپنے بچوں کو تعلم دلائیں، جن کی گرفتاری پر انعام مقرر ہے، ہم ان کو کہتے ہیں کہ آپ کی ملکیت، خاندان کی حفاظت کی جائے گی آپ موشی پالیں اور خوشحال زندگی گزاریں ،وہاں راستے بنے گے خوشحالی آئے گی آپ کو آنے جانے میں آسانی ہو گی آپکے بچوں کو تعلیم دلائیں حکومت نے جائزہ لینے کے لئے مانیٹرنگ کمیٹی بنائی ہے ،جس کو میں خود چیئر کر رہا ہوں، کمیٹی میں منتخب نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، ڈٍاکوؤں کی کوئی زندگی نہیں جگہ جگہ چھپتے پھرتے ہیں موقع ہے پیش ہوں ان کو مقابلے میں پولیس نہیں مارے گی ،تقریب میں ڈاکوؤں کاجمع کرایاگیا جدید اسلحہ بھی رکھا گیا جس میں کلاشنکوف، راکٹ لانچر، اینٹی ائیرکرافٹ گن سمیت دیگر جدید ہتھیارشامل تھے۔ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کی سروں کی مجموعی قیمت 6 کروڑ روپے سے زائد تھی۔بدنام زمانہ ڈاکو نثار سبزوئی کے خلاف مختلف تھانوں میں 82 مقدمات درج ہیں اس کے سر کی قیمت 3 ملین روپے مقرر تھی۔ لادو تیغانی پر 93 ایف آئی آرز جب کہ سر کی قیمت 2 ملین روپے رکھی گئی تھی۔ سوکھیو تیغانی کے خلاف 49 مقدمات اور حکومت کی جانب سے 6 ملین روپے انعام مقرر تھا۔ سونارو تیغانی کے خلاف 26 مقدمات جب کہ سر کی قیمت 6 ملین روپے مقرر تھی۔ جمعو تیغانی کے خلاف 24 مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر تھی۔ ملن عرف واحد علی عرف واجو تیغانی کے خلاف 29 مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔گلزار بھورو تیغانی کے خلاف 14 مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔ غلام حسین عرف نمو تیغانی کے سر کی قیمت 3 لاکھ روپے مقرر تھی۔ نور دین تیغانی کے خلاف مختلف تھانوں میں 6 مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت 15 لاکھ روپے مقرر تھی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت لاکھ روپے مقرر تھی تیغانی کے خلاف کے حوالے کر ملین روپے قانون کے ڈاکوو ں خود کو

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ