سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں ایک دہائی بعد نمایاں کمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں ایک دہائی بعد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی قیادت میں عدالتی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے نمایاں نتائج دیئے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق 2024 کے آغاز میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 60 ہزار 446 تھی جو اکتوبر 2025 تک کم ہو کر 56 ہزار 169رہ گئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے عہدہ سنبھالتے ہی مقدمات میں کمی کو اولین ترجیح قرار دیا۔جوڈیشل ریفارم ایکشن پلان کے تحت عدالتی نظام میں جدیدیت اور شفافیت پر توجہ دی گئی۔ڈیجیٹل فائلنگ، آن لائن کیس ٹریکنگ اور الیکٹرانک تصدیق شدہ نقول کے نظام کا آغاز کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو ایکسچینج ’ بائنانس‘ کے بانی ’ چانگ پینگ ژاؤ‘ کو معاف کر دیا
رجسٹریوں اور بینچز کے درمیان رابطہ بہتر بنایا گیا اور ڈیٹا پر مبنی نظام کے ذریعے فیصلوں میں شفافیت اور رفتار میں اضافہ ہوا۔اعلامیے کے مطابق ایک دہائی بعد پہلی بار سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: میں زیر التوا مقدمات سپریم کورٹ
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔