وزارتِ داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے نزدیک ٹی ایل پی دہشتگردی میں ملوث پائی گئی ہے، لہٰذا تنظیم پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی گئی تھی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 2016 میں قائم ہونے والی یہ تنظیم ملک بھر میں شرانگیزی اور پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ملوث رہی ہے، جن کے باعث سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے منظوری کی تصدیق کے بعد کہا تھا کہ وزارتِ داخلہ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے سے فیصلہ نافذالعمل ہو گیا۔ ان کے مطابق، پابندی کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ کی منظوری درکار نہیں۔
رانا ثنااللہ نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے باضابطہ ریفرنس وفاق کو بھجوایا گیا تھا، جس پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب نے کابینہ کو بریفنگ دی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پر پابندی ٹی ایل پی
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔