پی ایم ڈی سی کا پرچہ آؤٹ ہوا تو صوبہ ذمہ دار ہوگا، وفاقی وزیر صحت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
کراچی:
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پی ایم ڈی سی کا بہترین امتحان ہونے جا رہا ہے، اگر کوئی پرچہ آوٹ ہوا تو صوبہ ذمہ دار ہو گا۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کے امتحانات پر ہر سال سوالات اٹھتے ہیں، ہر صوبے کا میڈیکل سلیبس الگ ہے، اس پر کہا جاتا ہے آؤٹ آف سلیبس سوال آ گیا، پی ایم ڈی سی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چھ ہزار سوالات کا ’کوئسچن بینک‘ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کو تین تین سوالنامے دے دیے گئے ہیں، صوبے کی مرضی ہے کون سا سوالنامہ دے، پی ایم ڈی سی نے پہلی بار مسائل کا حل نکالا ہے، مارچ سے اس سوالات بینک پر کام چل رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیست کیلئے نو ہزار روپے فیس طالب علم سے لی گئی ہے جس میں سے ساڑھے سات ہزار صوبوں کو دے دیا گیا ہے جبکہ پندرہ سو روپے ایڈمنسٹریٹو ضروریات کے لیے پی ایم ڈی سی نے رکھے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 26 تاریخ کو امتحان ہونے جا رہا ہے جس کیلئے ایک لاکھ چالیس ہزار دو سو نوے طالب علموں نے رجسٹریشن کروائی ہے، بائیس ہزار طالب علموں کو داخلے دیے جائیں گے، 33 سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں 32 پاکستان میں اور ایک ریاض میں بنایا گیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پی ایم ڈی سی نے کہا کہ
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔