فارملین ملے دودھ کی فروخت، وسطی، کورنگی اور ملیر میں 20 دکانیں سربمہر
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
کراچی:
کراچی انتظامیہ نے فوڈ اتھارٹی کے ساتھ مل کر ناقص دودھ کی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، ضلع وسطی، کورنگی اور ملیر کے ڈپٹی کمشنرز نے 20 دکانیں سربمہر کردیں، سیل کردہ ایک دکان کھولنے پر 50 ہزار جرمانہ کرتے ہوئے دکان دار کو گرفتار کرلیا۔
ڈپٹی کمشنرز نے کمشنر کراچی کو پیش کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ دکانیں فارملین ملا دودھ فروخت کررہی تھیں، فارملین ملا دودھ پینے سے انسانی جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ فارملین انسان کے اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچاتا ہے، اعصابی عوارض کا بنتا ہے اور ایک تحقیق کے مطابق یہ کینسر کا شکار بھی کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع وسطی اور کورنگی میں سات سات دکانیں سیل کی گئیں جبکہ ضلع ملیر میں ایک ہول سیلر سمیت 6 دکانیں سیل کی گئیں۔ دودھ کے نمونے پی ایس کیو سی اے لیبارٹری میں چیک کیے گئے۔
محکمہ فوڈ اتھارٹی نے کمشنر کراچی کو دودھ میں ملاوٹ شدہ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
کمشنر آفس نے جن دکانوں کو سربمہر کیا ہے ان میں ضلع وسطی میں گجر ڈیری اینڈ کیٹل فارمر ناظم آباد نمبر 3، گجر ڈیری سیکٹر 11 نیو کراچی، ناگوری ملک شاپ نارتھ کراچی، امام ملک شاپ 11C نارتھ کراچی، فضل ربی ملک سینٹر بفرزون 15.
اسی طرح ضلع کورنگی میں عبد الحفیظ ملک شاپ کورنگی نمبر 4 پاک اسلام ڈیری شاہ فیصل نمبر 2، کراچی ڈیری شاہ فیصل نمبر 3، پاک اسلام ڈیری شاہ فیصل نمبر 3، شان راجپوت شاہ فیصل نمبر 3، اذلان ڈیری جامعہ ملیہ اور مدینہ ڈیری جامعہ ملیہ شامل ہیں۔
کمشنر کراچی نے کہا ہے کہ ناقص اور غیر صحت مند دودھ انسان کے لئے نقصان دہ ہے اس کی فروخت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرسے کہا ہے کہ وہ دودھ کا معیار چیک کریں اورہر قانونی اورضروری کارروائی کریں یقینی بنائیں کہ شہریوں کو صحت مند اور معیاری دودھ دستیاب ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہ فیصل نمبر ملک شاپ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔