اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی ک ملی بھگت،شیٹ نمبر 5پلاٹ نمبر 38پر تعمیراتی لاقانونیت برقرار
رہائشیوں کی شکایات کے باوجود نگران ادارے خاموش،غیر مجاز عمارتیں بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ

شہر کی معروف ماڈل کالونی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ اطلاعات کے مطابق کالونی کے مختلف حصوں میں بغیر منظوری کے نئی عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں جبکہ موجودہ عمارتوں پر اضافی منزلیں بنا کر بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔شیٹ نمبر 5 کے پلاٹ نمبر 38 پر تعمیراتی لاقانونیت برقرار ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعلقہ محکموں میں متعدد بار درخواستیں جمع کروائی ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ایک رہائشی محمد عمران کا کہنا تھا، ’’ہم نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، بلدیہ عظمیٰ، ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ اور دیگر اداروں کو خطوط لکھے ہیں،مگر صرف وعدے ہوئے ہیں، عملی اقدامات نہیں دیکھے‘‘ ۔ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی بے حسی نے غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔محکمہ بلدیات کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جرأت سروے ٹیم کو بتایا کہ ’’طاقتور افراد کی سرپرستی میں یہ دھندہ چل رہا ہے ، جس کی وجہ سے کارروائی میں رکاوٹیں آ رہی ہیں‘‘۔شہری بنیادی ڈھانچے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔پانی، گیس اور بجلی کی لائنیں دباؤ کا شکار ہیں جبکہ نکاسی آب کا نظام غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے ۔شہری منصوبہ بندی کے ماہر ڈاکٹر عثمان احمد کا کہنا ہے کہ ’’اگر فوری طور پر اس روک تھام نہ کی گئی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے ۔ غیر قانونی تعمیرات نہ صرف بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ ہیں بلکہ زلزلے جیسے قدرتی حالات میں بڑے حادثات کا سبب بھی بن سکتی ہیں‘‘۔ماڈل کالونی کے مختلف سیکٹرز میں غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں۔ رات کی تاریکی میں چھپ کر تعمیراتی کام کیا جا رہا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے احتجاجی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ،محکمہ ماحولیات نے ان تعمیرات سے ماحولیاتی آلودگی کے بڑھنے کی خدشات کا اظہار کیا ہے ،اس صورت حال میں شہری حکام کی فوری توجہ ضروری ہے تاکہ شہر کے خوبصورت اور منظم ہونے کے ساتھ ساتھ رہائشیوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: غیر قانونی تعمیرات

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری