ٹی ایل پی پر پابندی عمران خان دور میں لگی، موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے، فواد چودھری
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
ٹی ایل پی پر پابندی عمران خان دور میں لگی، موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے، فواد چودھری WhatsAppFacebookTwitter 0 24 October, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی عمران خان دور میں لگی تھی، موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت لندن اور کینیڈا میں جاتی ہے اور ہم عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مثبت چیزیں ہوئی ہیں، اس پر بات کرنی ہے۔ ایک خواب تھا کہ امریکا پاکستان جیسے ملک کی حمایت اور تعریفیں کرے ۔ سعودی عرب نے پاکستان کی خدمات کو سراہا ، لیکن بین الاقوامی کامیابیوں کے باجود کوئی انویسٹمنٹ پاکستان میں نہیں آئی ۔ پاکستان سے بین الاقوامی کمپنیاں اپنا کام ختم کرکے واپس جارہی ہیں ۔
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو پاکستان میں استحکام لانے کی ضرورت ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ سہیل آفریدی نے کل بڑی ذمہ دارانہ بات کی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ سی ایم کو ملاقات کرنے دی جائے ، مگر سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم مذکرات اور بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بیان خوش آئند ہے۔ اس ماحول میں ٹمپریچر کم کرنے کی ضرورت ہے ۔ بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کرکے اس کو گھر جانے دیں، اس سے بھی ٹمپریچر کم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے۔ ٹی ایل پی پر پابندی 2021 میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور میں لگی تھی۔ مریم نواز نے نیب آفس پر پتھراؤ کیا ہے، اس کی ویڈیو موجود ہیں ۔ مریم نواز کو بری کیا گیا، ساتھ میں وہ ویڈیوز موجود ہیں، ان کو بھی چلائیں، سب پتا چل جائے گا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے اوپر جھوٹے کیسز بنائے گئے ہیں۔
قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت میں مغلپورہ، زمان پارک اور جناح ہاؤس کے قریب چوک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے 5 مقدمات کی سماعت ہوئی، جس میں فواد چودھری عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے فواد چوہدری کی عبوری ضمانت میں 28 نومبر تک توسیع کردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں ایک دہائی بعد نمایاں کمی سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں ایک دہائی بعد نمایاں کمی آزاد کشمیر کے 78 یوم تاسیس کے موقع پر مظفرآباد میں 21 توپوں کی سلامی لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کم سن بچیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ، عدالت نے اعلیٰ حکام کو طلب کرلیا پاکستان نے مہاجرین کو سینے سے لگایا، ہندوستان ہرا نہیں سکتا: وزیراعظم آزاد کشمیر ڈپٹی ڈائریکٹر سینیٹ چوہدری ناصر رفیق کے والد انتقال کر گئے علی ترین کی پی سی بی پر شدید تنقید، لیگل نوٹس پھاڑ دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹی ایل پی پر پابندی فواد چودھری دور میں لگی نے کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔