قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی آمرانہ سوچ کی عکاسی ہے، پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی سے متعلق رول 265 کی بحالی پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے ایک ایسے قانون کو دوبارہ زندہ کیا ہے جو غلامی اور آمرانہ دور کی علامت تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتی فیصلہ مسترد کرتے ہیں، 9 مئی کیسز کے فیصلے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردعمل
پی ٹی آئی کے اعلامیے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی درخواست پر رول 265 کو بحال کر دیا، جو قیدیوں کو سیاسی گفتگو سے روکتا ہے۔ پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عمران خان جیسے قومی رہنما کی آواز دبانے اور ان کے سیاسی اظہار کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ مارچ 2025 میں عدالت نے واضح طور پر حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیوں کی فہرست کے مطابق منگل اور جمعرات کو ملاقاتیں کرائی جائیں، تاہم اڈیالہ جیل انتظامیہ عدالتی فیصلوں کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کروں گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
پارٹی کے مطابق آج بھی عدالت نے ملاقات کی اجازت دی مگر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور جنید اکبر کو جیل کے دروازے پر روک دیا گیا اور ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔
پی ٹی آئی نے سوال اٹھایا کہ اگر عدالت اپنے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرا سکتی اور جیل انتظامیہ کھلم کھلا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرے تو انصاف کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟
’پابندی عمران خان کی آواز کو مکمل دبانے کی سازش ہے‘ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے، دوسری جانب سیاسی قیدیوں کے لیے ایک آمرانہ قانون بحال کر کے اُن کے منہ پر تالے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، جو عمران خان کو مکمل طور پر خاموش کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’میرے ڈولے چیک کرو‘، بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں وکلا سے کیا گفتگو کرتے ہیں؟
اعلامیے میں کہا گیا کہ عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں، اُن کی سیاست پر بات کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ ہر شہری کا حق ہے۔ ایسے قوانین اور فیصلے جو سیاسی رہنماؤں کی زبان بندی کے لیے استعمال ہوں، وہ جمہوریت نہیں بلکہ فسطائیت کی بدترین شکل ہیں۔
پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان کی آواز قید نہیں کی جا سکتی، اُن کے نظریے کو کسی ظالمانہ فیصلے یا آمرانہ قانون سے دبایا نہیں جا سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ عمران خان بولیں گے اور انشاءاللہ پورا پاکستان اُن کے ساتھ بولے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اڈیالہ جیل پابندی پی ٹی آئی سیاسی رہنما عمران خان میڈیا ٹاک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل پابندی پی ٹی ا ئی سیاسی رہنما میڈیا ٹاک
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔