راولپنڈی:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان سے ملاقاتوں کے حکم پر عمل درآمد کی ہدایت کردی، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ کے اعتراض پر ملاقات کے بعد جیل کے گیٹ پر میڈیا ٹاک سے روک دیا اور کہا کہ اپنے چیمبر میں جاکر یا شام کو بات کریں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل ملاقاتوں کی درخواستوں کو یکجا کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان بھی شامل تھے۔

جیل رولز پر عمل درآمد کے لیے پنجاب حکومت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے اعتراض کیا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس نہیں ہوا تھا۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے پوچھا کہ کیا 27 اے کا نوٹس اٹارنی جنرل سمیت آپ کو بھی بھیجنا لازمی ہے؟ کیا اٹارنی جنرل کو نوٹس ضروری ہوتا ہے؟

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے کہا کہ بالکل! عدالتی مثالیں موجود ہیں اٹارنی جنرل کو نوٹس ضروری ہے، پنجاب حکومت کو بھی پارٹی نہیں بنایا گیا تھا صرف ایڈوکیٹ جنرل کے ذریعے نوٹس تھا، پٹیشن میں پنجاب حکومت فریق نہیں تھی بعد میں ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے فریق بنایا گیا، پنجاب حکومت کو صحیح طریقے سے فریق نہیں بنایا گیا تھا۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ کس وجہ سے سنگل جج نے رول کو غیر قانونی قرار دیا تھا؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ آرٹیکل 19 اور دیگر وجوہات کی بنا پر متصادم قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے پوچھا کہ آرٹیکل 265 سے متعلق کیا کہا ہے؟ امجد پرویز نے کہا کہ آرٹیکل 265 کو 1978ء میں جیل رولز کے وقت ہی شامل کیا گیا تھا، سنگل بینچ نے جیل ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو پر پابندی کا جیل رول کالعدم قرار دے دیا تھا۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ کیا قانون کالعدم قرار دینے سے پہلے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرنا لازمی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ جی بالکل! اس متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں۔

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو بھی آرڈر ہو گا اس کا اثر ہماری درخواستوں پر پڑے گا۔ چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ کوٹوک دیا اور کہا کہ آپ پہلے انہیں بولنے تو دیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کردی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جن قوانین کا آپ حوالہ دے رہے وہ تو انڈر ٹرائل ملزمان کے لیے ہیں، جن رولز کو کالعدم کردیا گیا وہ وفاق کے رولز ہی نہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد یہ رولز اب پنجاب کے جیل رولز ہیں۔

ایڈوکیٹ جنرل نے سنگل رکنی بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔ سلمان اکرم راجہ نے دلائل دینے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ کو دلائل دینے سے روک دیا اور دوبارہ کہا کہ پہلے انہیں دلائل تو مکمل کرنے دیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں بس عدالت کی معاونت چاہتا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں ابھی معاونت کی ضرورت ہی نہیں، انہیں دلائل مکمل کرنے دیں۔

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے سپریم کورٹ کے آفتاب شیرپاؤ کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ فیصلے میں واضح کہا گیا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل کو سنے بغیر عدالت کیس نہیں سن سکتی، 
آفتاب شیرپاؤ کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دئیے تھے مگر پھر بھی 27 اے کا نوٹس ہوا تھا، آفتاب شیرپاؤ ججمنٹ کو آج تک استعمال کیا جارہا ہے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے سلمان اکرم راجا کو مخاطب کیا اور کہا کہ آپ کچھ کہنا چاہ رہے؟ اس پر وہ بولے کہ جی کچھ نکات پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، اس پر جسٹس ارباب نے کہا کہ ہم آپ سے سیکھیں گے۔ سلمان راجا نے کہا کہ میں بس عدالتی معاونت چاہتا ہوں۔

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کے دلائل مکمل ہوگئے۔ عدالت نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل آفس سے کوئی آیا ہے؟ اس پر نمائندہ اٹارنی جنرل آفس نے کہا کہ میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل کو ہی اپناتا ہوں۔ بعدازاں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد شہزاد شوکت نے دلائل شروع کردیے۔

سلمان اکرم راجہ نے استدعا کی کہ آپ ہماری توہین عدالت کی درخواستیں آج سن لیں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات کی درخواست دائر ہے،24 مارچ کو اسی لارجر بینچ نے آرڈر کیا، عدالتی آرڈر پر کسی ایک دن بھی عمل درآمد نہیں ہوا، عدالتی فیصلے کے مطابق ہم ہر بار نام دیتے ہیں مگر ان ناموں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی، لسٹ میں جو نام جاتے ہیں ان میں سے باہر کا بندہ ایڈ کیا جاتا ہے۔ 

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ ان کی باقاعدہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، سلمان اکرم راجہ کی طرف سے ہمارے پاس کوئی فہرست نہیں آئی۔

عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 24 مارچ کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دے دیال عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو آئندہ ملاقات کی اجازت دینے کی ہدایت کی۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ عدالت نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرنے سے منع کیا تھا، یہ ملاقات کے بعد باہر آتے ہیں میڈیا سے بات کرتے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ گیٹ پر میڈیا سے بات نہ کریں، عدالت نے یہ نہیں کہا کہ ہماری منہ پر ٹیپ لگائیں، ہمیں اڈیالہ جیل سے ڈیڑھ میل دور رکھا گیا وہاں بات کرتے ہیں، ہم گیٹ پر کوئی بات نہیں کریں گے۔

عدالت نے کہا کہ ہم نے آپ کو میڈیا ٹاک سے نہیں روکا، آپ گیٹ پر بات نہیں کریں گے، چیمبر میں بات کریں یا شام کو کہیں بھی کرلیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں کے آرڈر پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بنچ نے آرڈر جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں ایس او پی کے مطابق کرانے کا حکم دیا تھا، سلمان اکرم راجہ نے جو فہرست دی ہے اس کے مطابق ان کی ملاقات کروائی جائے۔

علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری، پولیس حکم کی تعمیل کیلئے عدالت پہنچ گئی

دوران سماعت راولپنڈی پولیس کمرہ عدالت پہنچ گئی۔ پولیس افسر نے جج سے کہا کہ علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کروانے آئے ہیں۔

ایس ڈی پی او اظہر شاہ نے ورانٹ گرفتاری کی تعمیل کرادی۔ علمیہ خان نے کمرہ عدالت میں ہی وارنٹ گرفتاری پر دستخط کردیے۔ پولیس وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرکے کمرہ عدالت سے باہر چلی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو جسٹس ارباب محمد طاہر نے جنرل پنجاب امجد پرویز اسلام آباد ہائی کورٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سلمان اکرم راجہ نے وارنٹ گرفتاری کالعدم قرار اٹارنی جنرل پنجاب حکومت چیف جسٹس نے اور کہا کہ نے کہا کہ کی تعمیل عدالت نے عدالت کی کے مطابق دیا اور کو نوٹس جنرل کو گیا تھا کا حکم کے بعد گیٹ پر

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع