سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان سے ملاقاتوں کیلئے سلمان راجا کی فہرست پر عمل درآمد کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
راولپنڈی:
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان سے ملاقاتوں کے حکم پر عمل درآمد کی ہدایت کردی، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ کے اعتراض پر ملاقات کے بعد جیل کے گیٹ پر میڈیا ٹاک سے روک دیا اور کہا کہ اپنے چیمبر میں جاکر یا شام کو بات کریں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل ملاقاتوں کی درخواستوں کو یکجا کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان بھی شامل تھے۔
جیل رولز پر عمل درآمد کے لیے پنجاب حکومت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے اعتراض کیا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس نہیں ہوا تھا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے پوچھا کہ کیا 27 اے کا نوٹس اٹارنی جنرل سمیت آپ کو بھی بھیجنا لازمی ہے؟ کیا اٹارنی جنرل کو نوٹس ضروری ہوتا ہے؟
ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے کہا کہ بالکل! عدالتی مثالیں موجود ہیں اٹارنی جنرل کو نوٹس ضروری ہے، پنجاب حکومت کو بھی پارٹی نہیں بنایا گیا تھا صرف ایڈوکیٹ جنرل کے ذریعے نوٹس تھا، پٹیشن میں پنجاب حکومت فریق نہیں تھی بعد میں ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے فریق بنایا گیا، پنجاب حکومت کو صحیح طریقے سے فریق نہیں بنایا گیا تھا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ کس وجہ سے سنگل جج نے رول کو غیر قانونی قرار دیا تھا؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ آرٹیکل 19 اور دیگر وجوہات کی بنا پر متصادم قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے پوچھا کہ آرٹیکل 265 سے متعلق کیا کہا ہے؟ امجد پرویز نے کہا کہ آرٹیکل 265 کو 1978ء میں جیل رولز کے وقت ہی شامل کیا گیا تھا، سنگل بینچ نے جیل ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو پر پابندی کا جیل رول کالعدم قرار دے دیا تھا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ کیا قانون کالعدم قرار دینے سے پہلے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرنا لازمی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ جی بالکل! اس متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں۔
عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو بھی آرڈر ہو گا اس کا اثر ہماری درخواستوں پر پڑے گا۔ چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ کوٹوک دیا اور کہا کہ آپ پہلے انہیں بولنے تو دیں۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کردی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جن قوانین کا آپ حوالہ دے رہے وہ تو انڈر ٹرائل ملزمان کے لیے ہیں، جن رولز کو کالعدم کردیا گیا وہ وفاق کے رولز ہی نہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد یہ رولز اب پنجاب کے جیل رولز ہیں۔
ایڈوکیٹ جنرل نے سنگل رکنی بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔ سلمان اکرم راجہ نے دلائل دینے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ کو دلائل دینے سے روک دیا اور دوبارہ کہا کہ پہلے انہیں دلائل تو مکمل کرنے دیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں بس عدالت کی معاونت چاہتا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں ابھی معاونت کی ضرورت ہی نہیں، انہیں دلائل مکمل کرنے دیں۔
ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے سپریم کورٹ کے آفتاب شیرپاؤ کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ فیصلے میں واضح کہا گیا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل کو سنے بغیر عدالت کیس نہیں سن سکتی،
آفتاب شیرپاؤ کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دئیے تھے مگر پھر بھی 27 اے کا نوٹس ہوا تھا، آفتاب شیرپاؤ ججمنٹ کو آج تک استعمال کیا جارہا ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے سلمان اکرم راجا کو مخاطب کیا اور کہا کہ آپ کچھ کہنا چاہ رہے؟ اس پر وہ بولے کہ جی کچھ نکات پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، اس پر جسٹس ارباب نے کہا کہ ہم آپ سے سیکھیں گے۔ سلمان راجا نے کہا کہ میں بس عدالتی معاونت چاہتا ہوں۔
ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کے دلائل مکمل ہوگئے۔ عدالت نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل آفس سے کوئی آیا ہے؟ اس پر نمائندہ اٹارنی جنرل آفس نے کہا کہ میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل کو ہی اپناتا ہوں۔ بعدازاں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد شہزاد شوکت نے دلائل شروع کردیے۔
سلمان اکرم راجہ نے استدعا کی کہ آپ ہماری توہین عدالت کی درخواستیں آج سن لیں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات کی درخواست دائر ہے،24 مارچ کو اسی لارجر بینچ نے آرڈر کیا، عدالتی آرڈر پر کسی ایک دن بھی عمل درآمد نہیں ہوا، عدالتی فیصلے کے مطابق ہم ہر بار نام دیتے ہیں مگر ان ناموں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی، لسٹ میں جو نام جاتے ہیں ان میں سے باہر کا بندہ ایڈ کیا جاتا ہے۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ ان کی باقاعدہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، سلمان اکرم راجہ کی طرف سے ہمارے پاس کوئی فہرست نہیں آئی۔
عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 24 مارچ کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دے دیال عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو آئندہ ملاقات کی اجازت دینے کی ہدایت کی۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ عدالت نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرنے سے منع کیا تھا، یہ ملاقات کے بعد باہر آتے ہیں میڈیا سے بات کرتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ گیٹ پر میڈیا سے بات نہ کریں، عدالت نے یہ نہیں کہا کہ ہماری منہ پر ٹیپ لگائیں، ہمیں اڈیالہ جیل سے ڈیڑھ میل دور رکھا گیا وہاں بات کرتے ہیں، ہم گیٹ پر کوئی بات نہیں کریں گے۔
عدالت نے کہا کہ ہم نے آپ کو میڈیا ٹاک سے نہیں روکا، آپ گیٹ پر بات نہیں کریں گے، چیمبر میں بات کریں یا شام کو کہیں بھی کرلیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں کے آرڈر پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بنچ نے آرڈر جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں ایس او پی کے مطابق کرانے کا حکم دیا تھا، سلمان اکرم راجہ نے جو فہرست دی ہے اس کے مطابق ان کی ملاقات کروائی جائے۔
علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری، پولیس حکم کی تعمیل کیلئے عدالت پہنچ گئی
دوران سماعت راولپنڈی پولیس کمرہ عدالت پہنچ گئی۔ پولیس افسر نے جج سے کہا کہ علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کروانے آئے ہیں۔
ایس ڈی پی او اظہر شاہ نے ورانٹ گرفتاری کی تعمیل کرادی۔ علمیہ خان نے کمرہ عدالت میں ہی وارنٹ گرفتاری پر دستخط کردیے۔ پولیس وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرکے کمرہ عدالت سے باہر چلی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو جسٹس ارباب محمد طاہر نے جنرل پنجاب امجد پرویز اسلام آباد ہائی کورٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سلمان اکرم راجہ نے وارنٹ گرفتاری کالعدم قرار اٹارنی جنرل پنجاب حکومت چیف جسٹس نے اور کہا کہ نے کہا کہ کی تعمیل عدالت نے عدالت کی کے مطابق دیا اور کو نوٹس جنرل کو گیا تھا کا حکم کے بعد گیٹ پر
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔