بیرسٹر سیف اور مزمل اسلم کابینہ میں شامل ہوں گے یا نہیں؟ وزیراعلیٰ کےپی نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
---فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ کابینہ کی تشکیل کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہوگا، ابھی تک کابینہ کے ناموں کو حتمی شکل نہیں دی۔
’جیو نیوز‘ سے غیر رسمی گفتگو کے دوران سہیل آفریدی نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد اور پارٹی کے فیصلوں پر عمل کا پابند اور فیصلوں پر عملدرآمد کروں گا۔
اس دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ بیرسٹر سیف اور مزمل اسلم کابینہ میں شامل ہوں گے یا نہیں؟ اس پر جواب دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ بیرسٹر سیف، مزمل اسلم کی کابینہ میں شمولیت سے متعلق بانی نے ہدایات نہیں دیں، کابینہ کا فیصلہ اڈیالہ میں ملاقات کے بعد بانی کے احکامات پر ہو گا۔
انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے استدعا کی کہ اڈیالہ جیل حکام کو ملاقات کی اجازت دینے کے لیے ضروری احکامات جاری کیے جائیں۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا نومبر میں کوئی ایڈونچر ہوگا، فیصلے سیاسی ہوں گے یا جذباتی؟
اس پر وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ میں انتظامی امور دیکھ رہا ہوں، سیاسی حکمتِ عملی اور احتجاج کا فیصلہ پارٹی کرے گی، سیاسی پیشرفت اور پارٹی امور کا فیصلہ صدر خیبر پختونخوا اور پارٹی کرے گی۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا سیکیورٹی اسٹاف اڈیالہ جیل پہنچا تھا۔سہیل آفریدی کے سیکیورٹی اسٹاف کو اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر روک دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے آج اڈیالہ جیل جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی اڈیالہ جیل کا فیصلہ نے کہا
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔