Juraat:
2026-07-24@06:11:03 GMT

عمران خان سے جیل ملاقاتوں کے آرڈر پر عملدرآمد کا حکم

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

عمران خان سے جیل ملاقاتوں کے آرڈر پر عملدرآمد کا حکم

سلمان اکرم جن کے نام دیں ان کی عمران سے ملاقات کرائی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
باقاعدہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، سلمان اکرم کی طرف سے کوئی لسٹ نہیں آئی،سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو سلمان اکرم راجہ کی فہرست میں شامل افراد کو عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پرمشتمل بینچ نے عمران خان سے جیل ملاقاتوں کی درخواستوں پر سماعت کی جس دوران ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم اورسپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جن رولز کو معطل کردیا وہ وفاق کے رولز ہیں ہی نہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد یہ رولز اب پنجاب کے جیل رولز ہیں۔اس موقع پر سلمان اکرم نیدلائل دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری توہین عدالت کی درخواستیں آج سن لیں، وزیراعلی خیبر پختونخوا کی ملاقات کی درخواست دائر ہے، 24 مارچ کو اسی لارجر بینچ نے آرڈر کیا، عدالتی آرڈر پر کسی ایک دن بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق ہم ہربار نام دیتے ہیں مگر انہیں جانے کی اجازت نہیں ملتی، لسٹ میں جو نام جاتے ہیں ان میں سے باہر کا بندہ ایڈ کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالا جیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی باقاعدہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، سلمان اکرم راجہ کی طرف سے ہمارے پاس کوئی لسٹ نہیں آئی۔ بعد ازاں عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالاجیل کو عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کے 24 مارچ کے آرڈر پرعملدرآمد کا حکم دیا۔عدالت نے ہدایت دی کہ سلمان اکرم راجہ جو فہرست دیں گے ان کی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سلمان اکرم کا حکم

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت