ٹی ایل پی پر پابندی عمران خان دور میں لگی، موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے، فواد چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
لاہور:
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی عمران خان دور میں لگی تھی، موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت لندن اور کینیڈا میں جاتی ہے اور ہم عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مثبت چیزیں ہوئی ہیں، اس پر بات کرنی ہے۔ ایک خواب تھا کہ امریکا پاکستان جیسے ملک کی حمایت اور تعریفیں کرے ۔ سعودی عرب نے پاکستان کی خدمات کو سراہا ، لیکن بین الاقوامی کامیابیوں کے باجود کوئی انویسٹمنٹ پاکستان میں نہیں آئی ۔ پاکستان سے بین الاقوامی کمپنیاں اپنا کام ختم کرکے واپس جارہی ہیں ۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو پاکستان میں استحکام لانے کی ضرورت ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ سہیل آفریدی نے کل بڑی ذمہ دارانہ بات کی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ سی ایم کو ملاقات کرنے دی جائے ، مگر سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم مذکرات اور بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بیان خوش آئند ہے۔ اس ماحول میں ٹمپریچر کم کرنے کی ضرورت ہے ۔ بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کرکے اس کو گھر جانے دیں، اس سے بھی ٹمپریچر کم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے۔ ٹی ایل پی پر پابندی 2021 میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور میں لگی تھی۔ مریم نواز نے نیب آفس پر پتھراؤ کیا ہے، اس کی ویڈیو موجود ہیں ۔ مریم نواز کو بری کیا گیا، ساتھ میں وہ ویڈیوز موجود ہیں، ان کو بھی چلائیں، سب پتا چل جائے گا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے اوپر جھوٹے کیسز بنائے گئے ہیں۔
قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت میں مغلپورہ، زمان پارک اور جناح ہاؤس کے قریب چوک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے 5 مقدمات کی سماعت ہوئی، جس میں فواد چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے فواد چوہدری کی عبوری ضمانت میں 28 نومبر تک توسیع کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فواد چوہدری پی ٹی آئی نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔