ڈالر کی قیمت میں مزید کمی، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
کراچی:
انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان جاری ہے جہاں روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے پانڈا بانڈز کے بعد یورو بانڈز بھی متعارف کرائے جانے، خام تیل کی عالمی قیمت 3سال کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد ٹرمپ کی روس پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے سے دوبارہ محدود پیمانے پر اضافے، درآمدی بل میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونے جیسے عوامل کے باعث زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں جمعرات کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔
معاشی استحکام، شعبہ جاتی بنیادوں پر غیرملکی سرمایہ کاری کی امیدیں برقرار رہنے سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیئے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا اور ایک موقع پر ڈالر کی قدر 28پیسے کی کمی سے 280 روپے 77پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔
سپلائی میں بہتری رونما ہوتے ہی درآمدی ضروریات کے لیے زرمبادلہ کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 03پیسے کی کمی سے 281 روپے 02پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 05پیسے کی کمی سے 282روپے 05پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں ڈالر کی کی قدر
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔