امریکی حکومت کا شٹ ڈاﺅن: قومی قرضوں کا حجم 380 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن:۔ امریکی وفاقی حکومت کا شٹ ڈاﺅن 22ویں روز میں داخل ہو گیا ہے جبکہ امریکی قومی قرضوں کا حجم 380 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
سی جی ٹی این کے مطابق امریکی کانگریس گیارہویں بار وفاقی حکومت کے لیے عارضی بل منظور کرنے کی کوشش میں ناکام رہی اور فی الحال دونوں جماعتوں کے پاس مذاکرات کے نئے دور کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے ایک امدادی مرکز میں وفاقی ملازمین جن کی اجرت واجب الادا ہے، مفت کھانا حاصل کرنے کے لیے درجنوں میٹر لمبی قطار میں کھڑے رہے۔ امریکی فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مقامی وقت کے مطابق 18 سے 20 اکتوبر تک امریکا میں تقریباً 20 ہزار ملکی اور بین الاقوامی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
یو ایس نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن 20اکتوبر کو اعلان کر چکی ہے کہ اس کے تقریباً 1,400 ملازمین نے اسی دن سے بغیرمعاوضہ رخصت کا آغاز کرد یا ہے اور اب صرف 400 ملازمین نوکری پر حاضر ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 21 اکتوبر تک امریکی وفاقی حکومت کا کل قرض پہلی بار 380 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکاہے۔ یہ قرض اگست کے وسط میں 370کھرب ڈالر تھا جس میں صرف دو ماہ میں مزید ایک ٹریلین (دس کھرب) ڈالر کا ضافہ ہو گیا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔