ایم ویل ون: کراچی تا روہڑی ریلوے لائن کی تیز رفتار تکمیل کیلئے 2 ارب ڈالر کا قرض مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے 2 ارب ڈالر کا فنانسنگ پیکج حاصل کر لیا ہے تاکہ کراچی۔پشاور مرکزی ریلوے لائن (ایم ایل-ون) کے کراچی تا روہڑی حصے پر آئندہ سال کے اوائل میں کام کا آغاز کیا جا سکے۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو دسمبر 2028 سے قبل مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ اربوں ڈالر مالیت کے ریکو ڈک کاپر اور گولڈ پروجیکٹ سے منسلک نقل و حمل کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے، بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 10 ارب ڈالر مالیت کے ایم ایل-ون توسیعی منصوبے کے 2 اہم حصے 2028 کے اختتام تک مکمل ہو جائیں گے، کراچی۔روہڑی سیکشن پر 2 ارب ڈالر کے اے ڈی بی پیکج کے تحت پیش رفت ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روہڑی۔نوکنڈی سیکشن پر ریکو ڈک مائننگ کمپنی کے ساتھ بات چیت جاری ہے، دونوں منصوبے ریکو ڈک میں پیداوار کے آغاز سے پہلے مکمل کر لیے جائیں گے۔
وزیر مملکت نے جاری نجکاری کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی فروخت کا عمل آئندہ ماہ آگے بڑھنے کی توقع ہے، جب کہ فرسٹ ویمن بینک کی کامیاب نجکاری مکمل ہو چکی ہے۔
برآمدات میں اضافے کے حوالے سے بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ حال ہی میں نجی شعبے کے کاروباری رہنماؤں کی سربراہی میں قائم کردہ ورکنگ گروپس کو آئی ایم ایف پروگرام کے دائرہ کار میں پالیسی سفارشات تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے، یہ گروپس اپنی تجاویز اور اہداف 15 نومبر تک وزیرِاعظم شہباز شریف کو پیش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ورکنگ گروپس آمدنی ٹیکس، کسٹمز، اینٹی ڈمپنگ، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ، توانائی، ریلوے، بندرگاہیں، صنعتی ترقی، زراعت، آئی ٹی اور صنعتی کاری جیسے کلیدی شعبوں پر مشتمل ہیں، جن میں متعلقہ وزارتوں کے افسران تکنیکی مشیروں کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی عملی تجاویز کو پالیسیوں میں شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ توانائی کی لاگت میں کمی، ٹیکس اصلاحات، برآمدات کے فروغ اور پائیدار ترقی کو ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت کو زرمبادلہ کے حصول کا ذریعہ بنانے اور آئی ٹی برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے سے مسلسل مشاورت کا عمل ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے، کیوں کہ حکومت کا یقین ہے کہ پائیدار معاشی ترقی عوامی و نجی شعبے کی مشترکہ کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ مہنگائی پر قابو پانے، روزگار بڑھانے، برآمدات میں توسیع اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں چیلنجز اب بھی موجود ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کے گزشتہ 18 ماہ کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم کا کاروباری رہنماؤں کے ساتھ حالیہ 3 گھنٹے طویل اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت قومی اقتصادی پالیسیوں میں نجی شعبے کے نقطۂ نظر کو شامل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ارب ڈالر انہوں نے کہ حکومت کہا کہ
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔