یوکرین تنازعہ میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے الزامات بے بنیاد قرار
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان نے یوکرین تنازعہ میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ یوکرین تنازعہ میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے بے بنیاد الزامات کو مستردکرتے ہیں، آج تک یوکرائن حکام نے پاکستان سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ یوکرینی حکام کی طرف سے اب تک کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیاگیا، پاکستان کو یوکرینی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر آگاہ بھی نہیں کیا گیا۔
ٹی ٹونٹی سیریز ؛پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی ڈبلن میں بھرپور پریکٹس
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان یوکرین کے صدر ولادی میرزیلنسک کے بیان کے معاملے پر یوکرینی حکام سے وضاحت طلب کرے گی،پاکستان یوکرین تنازعہ کے پرامن حل کا خواہاں ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان یواین چارٹر کے اصولوں کے مطابق بات چیت اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے۔
خیال رہے کہ یوکرینی صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ روس کی طرف سے متعدد ممالک کے جنگجو بشمول پاکستانی اور چینی جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔
تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج اور جلسہ منسوخ کردیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: یوکرین تنازعہ نے کہا کہ
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا