کپتان کی گرفتاری کی برسی، رہائی کے لیے ختم شریف ٹرائی کریں
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
کپتان کو دوسری بار 5 اگست 2023 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے پر عمل میں آئی تھی۔ 3 سال قید اور 5 سال کی نااہلی کی سزا ہونے کے بعد کپتان کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔ کپتان کے مداحوں کے خیال میں اب وہ اندر بیٹھا ایک بہت بڑی گیم لگا رہا ہے۔ اب اس گیم کو براہ راست دیکھنے کے لیے انتظام ہوگیا ہے اور پی ٹی آئی قیادت کی بڑی تعداد جلد جیل پہنچ کر اس گیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گی اور سمجھنے کی کوشش کرے گی کہ گیم ہے کیا۔
کپتان کو 9 مئی 2023 کو پہلی بار اسلام آباد ہائیکورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تب گرفتاری القادر ٹرسٹ کیس میں ہوئی تھی۔ اس گرفتاری کے بعد کپتان کے مداحوں نے ملک بھر میں چھاؤنیوں کا رخ کرلیا تھا۔ انہونی ہوئی تھی جسے اب پی ٹی آئی بھگت رہی ہے۔
5 اگست کو کپتان کی دوسری گرفتاری کی برسی ہی نہیں ہے بلکہ اس دن کی ایک اور اہمیت بھی ہے۔ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے جموں اور کشمیر کا آئینی اسٹیٹس تبدیل کردیا تھا۔ آرٹیکل 370 اے اور آرٹیکل 35 کے تحت بھارتی آئین میں جو خصوصی حیثیت جموں و کشمیر کو حاصل تھی وہ آئینی ترمیم کرکے ختم کردی گئی تھی۔ کشمیر کو انڈیا نے آئینی طور پر اپنا حصہ بنا لیا تھا۔
اس پر کپتان نے قوم کو ہدایت کی تھی کہ ہر جمعے کو آدھا گھنٹہ دھوپ میں کھڑی ہو یوں اس جادوئی عمل کے ذریعے شاید کشمیر واپس ملنا تھا۔ قوم یا تو سمجھی نہیں یا کپتان کی بات کا اثر نہیں لیا اور کشمیر کھایا پیا گیا۔ 21 جولائی 2019 کو کپتان واشنگٹن پہنچا تھا۔ اگلے دن 22 جولائی وائٹ ہاؤس میں کپتان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔
اس ملاقات میں ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی بات کی تھی۔ کپتان نے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی فیل آئی ہے۔ بھارت نے اس فیلنگ پر 5 اگست کو کشمیر کا خصوصی اسٹیٹس ختم کرکے ٹھنڈا یخ پانی پھینک دیا۔ اس امریکی دورے پر جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید بطور ڈی جی آئی ایس آئی کپتان کے ہمراہ گئے تھے۔
امریکی دورے سے ایک مہینہ پہلے 16 جون کو ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم منیر کو تبدیل کردیا گیا تھا۔ جنرل فیض حمید نئے ڈی جی آئی ایس آئی بنائے گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان پشاور کے ایک صحافی فدا عدیل کو انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کو پیرنی کی کرپشن بتانے پر نہیں بلکہ اس لیے ہٹایا گیا تھا کہ واشنگٹن میں کشمیر کا سودا ہونا تھا۔ یہ مولانا صاحب کی رائے ہے، کشمیر پر مولانا کی بات سنتے ہوئے یہ بھی دھیان میں لائیں کہ وہ کتنا طویل عرصہ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں۔
26 فروری 2019 کو جب انڈیا نے بالاکوٹ پر حملہ کیا تو اس کے اگلے دن 27 فروری کو پاکستان نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے تحت جوابی کارروائی کی تھی۔ اس کارروائی میں ابھی نندن کا جہاز گرا کر اسے پکڑ کر چائے پلائی گئی جس کو اس نے فنٹاسٹک ٹی قرار دیا تھا۔ ان تاریخوں پر جنرل عاصم منیر ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ بالاکوٹ حملے کے بعد کپتان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ’کیا میں انڈیا پر حملہ کردوں؟ ہم حملہ کریں گے تو وہ جواب دیں گے اور پھر ہم جواب دیں گے تو پھر جنگ ہوگی‘۔
انڈیا نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر 7 مئی کو آپریشن سندور کے نام سے پاکستان پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ہی بھارتی فضائیہ کا بولو رام ہوگیا۔ پاکستانی دعوے کے مطابق انڈیا کے 6 جہاز گرائے گئے، جن میں 3 رافیل اور ایک ملٹری گریڈ ڈرون اضافی تھا۔ پاکستان کے جوابی حملے کے بعد 10 مئی کو سیز فائر ہوگیا۔ اس سیز فائر کا کریڈٹ ٹرمپ مسلسل لے رہا ہے۔ سرینڈر مودی کو سانپ سونگھا ہوا ہے۔ ٹرمپ اٹھتے بیٹھتے انڈیا کو یاد کراتا ہے کہ جب اڑنا نہیں آتا تھا تو پنگا کیوں لیا تھا۔
لکھنا کپتان کی گرفتاری کی برسی پر تھا۔ حوالدار بشیر ایک دن بیٹھے بیٹھے پرانے سیاستدانوں سے چڑ گیا۔ اس کو کپتان سے سچا پیار ہوگیا۔ جو کرپٹ بھی نہیں تھا اور سوہنا بھی بہت تھا۔ چٹ دیکھ کر پڑھتا بھی نہیں تھا۔ اوپر اگر بندہ ٹھیک ہو تو نیچے سب خود ٹھیک ہوجاتے ہیں، ایسے سائنسی جملے بھی سوجھ گئے تھے۔ جلسوں میں جب بھنگڑے اور میوزک شامل ہوا۔ میڈم لوگ نے ڈھیروں ڈھیر شرکت کی۔ آپس کی بات ہے ہر بندے کا ہی دل مچل گیا تھا کہ بس کپتان ہی ٹھیک ہے۔
وہ تو جب کام کے بجائے حوالدار بشیر کو تقریریں سننے کو ملیں۔ سر جی ٹوکرا پکڑ کر ملک ملک مانگنے نکلے۔ بقول بشریٰ بی بی اس قسم کے گلے آنے شروع ہوئے کہ یہ تم کیا چیز اٹھا کر لے آئے ہو۔ اس کے بعد سچے دل سے توبہ کرکے کورس کریکشن کی گئی۔ 9 مئی کو کپتان اور حوالدار بشیر کے آپسی پیار کا دی اینڈ ہوا۔
اب پارٹی، فیملی، کپتان کے حمایتی یوٹیوبر اور کے پی کی صوبائی حکومت سب چاہتے ہیں کہ کپتان اندر بیٹھا بڑی گیم لگاتا رہے اور ان کی باہر موج لگی رہے۔ جب احتجاج کرتے ہیں تو گلے پڑتا ہے۔ 9 مئی کی برکت سے ساری پارٹی اندر کپتان کے پاس پہنچنے والی ہے اور اس کی بڑی گیم لائیو دیکھے گی۔ اپنا پی ٹی آئی والوں کو مشورہ ہے کہ احتجاج وغیرہ چھوڑیں اس میں پولیس مارتی ہے اور انقلاب بھی نہیں آتا۔ ختم شریف کرائیں، کروشیے والی چینی ٹوپی پہن کر دعائیں مانگیں کہ ایسا کرنے سے کپتان کی رہائی کا امکان احتجاج سے بہرحال زیادہ ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈی جی آئی ایس آئی کپتان کی کو کپتان کپتان کے کپتان نے گیا تھا کے بعد تھا کہ کے لیے ہے اور کی بات کی تھی
پڑھیں:
ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن (Emirates Airline)نے 2026 میں بھی دنیا کی سب سے زیادہ پرکشش اور زیادہ تنخواہیں دینے والی ایئرلائنز میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق ایمریٹس نہ صرف اپنے پائلٹس کو خطیر تنخواہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں متعدد اضافی مراعات بھی دی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے تجربہ کار پائلٹس اس ایئرلائن میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، ٹیکس فری آمدن اور بہتر کیریئر مواقع اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں ایئرلائن بناتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایمریٹس میں کام کرنے والے فرسٹ آفیسرز کی سالانہ آمدن تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار سے 6 لاکھ 20 ہزار درہم کے درمیان ہوتی ہے، جو امریکی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 14 ہزار سے 1 لاکھ 69 ہزار ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ تنخواہ کا انحصار طیارے کی قسم اور تجربے پر ہوتا ہے، خاص طور پر بوئنگ 777 اور ایئربس A380 جیسے طویل فاصلے کے طیاروں پر تعینات پائلٹس زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔
دوسری جانب کپتانوں کی تنخواہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایمریٹس کے کپتان سالانہ 9 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار درہم تک کما سکتے ہیں، جو تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار سے 3 لاکھ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ الٹرا لانگ ہال طیاروں جیسے ایئربس A380 کے کپتان اضافی الاؤنسز اور فلائنگ ڈیوٹی کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،شہباز شریف
ایمریٹس کی سب سے بڑی کشش اس کی ٹیکس فری تنخواہ ہے، جس کے باعث پائلٹس کی خالص آمدن دیگر مغربی ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے ملازمین کو رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، سفری الاؤنس، میڈیکل اور انشورنس سہولیات، اہل خانہ کے لیے سفری رعایتیں، بچوں کی تعلیم میں مدد اور بیرون ملک قیام کے دوران ہوٹل و کھانے کے اخراجات جیسی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔
بیڑے کے حوالے سے ایمریٹس دنیا کے سب سے بڑے وائیڈ باڈی طیاروں کے آپریٹرز میں سے ایک ہے، جس میں 116 ایئربس A380، 118 بوئنگ 777-300ER، 10 بوئنگ 777-200LR اور 19 ایئربس A350-900 شامل ہیں۔ کمپنی نے مستقبل کے لیے مزید 359 طیاروں کے بڑے آرڈرز بھی دیے ہیں جن میں بوئنگ 777-9، بوئنگ 777-8، بوئنگ 787 اور ایئربس A350 شامل ہیں۔
پائلٹ بننے کے لیے ایمریٹس میں سخت معیار مقرر ہیں۔ فرسٹ آفیسر کے لیے کم از کم 2 ہزار فلائنگ آورز جبکہ کپتان کے لیے 7 ہزار سے زائد فلائنگ آورز کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھنٹوں کا کمانڈ تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور انگریزی زبان میں مہارت بھی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔