ممبئی(شوبز ڈیسک) بالی ووڈ کے معروف خاندان کپورز کی جائیداد اور کنٹرول کی جنگ، جو پہلے ہی کسی بلاک بسٹر فلم سے کم نہیں تھی، اس ہفتے برطانیہ منتقل ہوکرایک نیا موڑ لے گئی جب سنجے کپور کی والدہ، رانی کپور نے اپنے بیٹے کی اچانک موت کو قدرتی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے برطانوی حکام کو ایک سنسنی خیز خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ موت ایک ”بین الاقوامی سازش“ اور ممکنہ ”قتل“ کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

بھارتی ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کے مطابق اس ڈرامائی خط میں رانی کپور نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسے ”مصدقہ اور تشویشناک شواہد“ موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ سنجے کپور کی موت نہ حادثاتی تھی اور نہ ہی قدرتی۔ ان شواہد میں ”قتل، اکسانا، سازش، دھوکہ دہی، اور جعل سازی“ جیسے سنگین جرائم کے امکانات شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس ”جعلی دستخط، مشکوک اثاثہ منتقلی، اور مشتبہ قانونی دستاویزات“ کے ثبوت بھی ہیں، جو ایسے افراد کی ملی بھگت کی نشاندہی کرتے ہیں جو مالی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ان کا خاص اشارہ سنجے کپور کی تیسری اہلیہ، پریا سچدیو کپور کی جانب تھا۔

رانی کپور نے برطانوی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،”قوی شواہد موجود ہیں کہ سنجے کپور کی موت ایک منظم بین الاقوامی سازش کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جس میں برطانیہ، بھارت اور ممکنہ طور پر امریکہ کے افراد اور ادارے ملوث ہیں۔“

انہوں نے برطانوی پولیس سے فوری طور پر اس معاملے پر باضابطہ شکایت درج کرنے اور مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس گہرے راز کو بے نقاب کیا جا سکے۔

یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب رانی کپور نے سونا گروپ، جس میں سونا کامسٹار اور سونا بی ایل ڈبلیو شامل ہیں، کی سالانہ میٹنگ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا اور خود کو اس گروپ کی اکثریتی شیئر ہولڈر قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بیٹے کی موت کے بعد غمزدہ حالت میں ان سے زبردستی دستاویزات پر دستخط کروائے گئے۔

انہوں نے پریا کپور کی نمائندگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خاندان کی جانب سے ان کی نمائندگی کے دعوے ”دباؤ کے تحت دستخط شدہ دستاویزات“ پر مبنی ہیں اور کمپنی کے معاملات میں ”سنگین غیر قانونی کارروائیاں“ ہوئی ہیں۔

چند گھنٹوں کے اندر، کمپنی نے واضح کیا کہ رانی کپور 2019 سے کمپنی کی شیئر ہولڈر نہیں ہیں اور سنجے کپور ہی واحد قانونی مالک تھے۔ کمپنی نے کہا کہ سنجے کپور کی موت کے بعد رانی کپور سے کوئی دستاویزات حاصل نہیں کی گئیں۔

گزشتہ ہفتے سونا کامسٹار نے رانی کپور کو ”سیز اینڈ ڈیسسٹ“ نوٹس بھیجا، جس میں ان کے الزامات کو کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ سنجے کپور 12 جون کو لندن میں پولو کھیلتے ہوئے اچانک انتقال کر گئے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ دل کا دورہ تھی، مگر بعض اطلاعات کے مطابق ان کے منہ میں شہد کی مکھی چلے جانے سے شدید الرجک ردعمل (انا فائلکٹسک شاک) آیا، جو موت کی اصل وجہ ہو سکتی ہے۔

گزشتہ ماہ رانی کپور نے پہلی بار میڈیا سے بات کی اور کہا،’مجھے آج تک نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا۔ میں اب بوڑھی ہو گئی ہوں، جانے سے پہلے مجھے سکون چاہیے۔‘

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: رانی کپور نے سنجے کپور کی کہ سنجے کپور انہوں نے کے مطابق کی موت

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے