’میرے بیٹے کی موت طبعی نہیں‘ کرشمہ کپور کی سابقہ ساس کا بڑا الزام
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
ممبئی(شوبز ڈیسک) بالی ووڈ کے معروف خاندان کپورز کی جائیداد اور کنٹرول کی جنگ، جو پہلے ہی کسی بلاک بسٹر فلم سے کم نہیں تھی، اس ہفتے برطانیہ منتقل ہوکرایک نیا موڑ لے گئی جب سنجے کپور کی والدہ، رانی کپور نے اپنے بیٹے کی اچانک موت کو قدرتی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے برطانوی حکام کو ایک سنسنی خیز خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ موت ایک ”بین الاقوامی سازش“ اور ممکنہ ”قتل“ کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
بھارتی ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کے مطابق اس ڈرامائی خط میں رانی کپور نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسے ”مصدقہ اور تشویشناک شواہد“ موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ سنجے کپور کی موت نہ حادثاتی تھی اور نہ ہی قدرتی۔ ان شواہد میں ”قتل، اکسانا، سازش، دھوکہ دہی، اور جعل سازی“ جیسے سنگین جرائم کے امکانات شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس ”جعلی دستخط، مشکوک اثاثہ منتقلی، اور مشتبہ قانونی دستاویزات“ کے ثبوت بھی ہیں، جو ایسے افراد کی ملی بھگت کی نشاندہی کرتے ہیں جو مالی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ان کا خاص اشارہ سنجے کپور کی تیسری اہلیہ، پریا سچدیو کپور کی جانب تھا۔
رانی کپور نے برطانوی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،”قوی شواہد موجود ہیں کہ سنجے کپور کی موت ایک منظم بین الاقوامی سازش کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جس میں برطانیہ، بھارت اور ممکنہ طور پر امریکہ کے افراد اور ادارے ملوث ہیں۔“
انہوں نے برطانوی پولیس سے فوری طور پر اس معاملے پر باضابطہ شکایت درج کرنے اور مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس گہرے راز کو بے نقاب کیا جا سکے۔
یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب رانی کپور نے سونا گروپ، جس میں سونا کامسٹار اور سونا بی ایل ڈبلیو شامل ہیں، کی سالانہ میٹنگ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا اور خود کو اس گروپ کی اکثریتی شیئر ہولڈر قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بیٹے کی موت کے بعد غمزدہ حالت میں ان سے زبردستی دستاویزات پر دستخط کروائے گئے۔
انہوں نے پریا کپور کی نمائندگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خاندان کی جانب سے ان کی نمائندگی کے دعوے ”دباؤ کے تحت دستخط شدہ دستاویزات“ پر مبنی ہیں اور کمپنی کے معاملات میں ”سنگین غیر قانونی کارروائیاں“ ہوئی ہیں۔
چند گھنٹوں کے اندر، کمپنی نے واضح کیا کہ رانی کپور 2019 سے کمپنی کی شیئر ہولڈر نہیں ہیں اور سنجے کپور ہی واحد قانونی مالک تھے۔ کمپنی نے کہا کہ سنجے کپور کی موت کے بعد رانی کپور سے کوئی دستاویزات حاصل نہیں کی گئیں۔
گزشتہ ہفتے سونا کامسٹار نے رانی کپور کو ”سیز اینڈ ڈیسسٹ“ نوٹس بھیجا، جس میں ان کے الزامات کو کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ سنجے کپور 12 جون کو لندن میں پولو کھیلتے ہوئے اچانک انتقال کر گئے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ دل کا دورہ تھی، مگر بعض اطلاعات کے مطابق ان کے منہ میں شہد کی مکھی چلے جانے سے شدید الرجک ردعمل (انا فائلکٹسک شاک) آیا، جو موت کی اصل وجہ ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ماہ رانی کپور نے پہلی بار میڈیا سے بات کی اور کہا،’مجھے آج تک نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا۔ میں اب بوڑھی ہو گئی ہوں، جانے سے پہلے مجھے سکون چاہیے۔‘
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رانی کپور نے سنجے کپور کی کہ سنجے کپور انہوں نے کے مطابق کی موت
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ