پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے تاریخ رقم کردی، انڈیکس 1,43,000 کی سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے مسلسل اعتماد اور خریداری کے رجحان کے باعث منگل کو کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 1,43,000 کی نئی سطح عبور کرگیا۔
منگل کی صبح 11 بج کر 55 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200.51 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 1,43,253.15 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 0.85 فیصد کے نمایاں اضافے کا مظہر ہے۔
سرمایہ کاری کے لحاظ سے نمایاں شعبے جیسے کہ آٹوموبائل، کمرشل بینکس، سیمنٹ، فرٹیلائزر اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) سبز نشان میں ٹریڈ کرتے رہے۔ اہم کمپنیوں جیسے ایس این جی پی ایل، وافی، ایم سی بی، ایم بی ای ایل اور یو بی ایل میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:
پیر کے روز بھی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان غالب رہا، اور کے ایس ای 100 انڈیکس 1,017 پوائنٹس یعنی 0.
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کی وجہ بڑی کمپنیوں کی مضبوط کارکردگی، مختلف شعبہ جات سے متوقع اچھے منافع، اور سرمایہ کاروں کی مثبت توقعات ہیں۔
عالمی مارکیٹ کا پس منظردوسری جانب ایشیائی مارکیٹوں میں بھی منگل کو مسلسل دوسرے روز تیزی دیکھی گئی، جبکہ امریکی ڈالر نے اپنی پچھلی گراوٹ کے رجحان کو برقرار رکھا، سرمایہ کاروں میں اس بات کا رجحان بڑھا ہے کہ فیڈرل ریزرو عالمی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ستمبر میں شرح سود میں کمی کر سکتا ہے۔
پیر کو امریکی شیئرز بھی مثبت آمدنی رپورٹس اور ملازمتوں کے کمزور اعداد و شمار کے بعد شرح سود میں کمی کی توقعات پر بہتر کارکردگی کے ساتھ بند ہوئے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں اضافہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر روسی تیل کی خریداری پر محصولات بڑھانے کی دھمکی ہے۔
مزید پڑھیں:
جاپان کی نِکئی مارکیٹ میں بھی بہتری دیکھی گئی، جہاں جولائی میں سروس سیکٹر کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک انڈیکس، جاپان کے علاوہ، 0.6 فیصد اضافہ ظاہر کر رہا ہے، جبکہ نِکئی انڈیکس میں بھی 0.5 فیصد بہتری آئی۔
سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق ستمبر میں شرح سود میں کمی کے امکانات اب تقریباً 94 فیصد ہو چکے ہیں، جو کہ 28 جولائی کو63 فیصد تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس امریکی شیئرز ایشیا پیسفک انڈیکس ایم سی بی بینچ مارک پاکستان اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کار سروس سیکٹر وافی یو بی ایل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس امریکی شیئرز ایم سی بی پاکستان اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کار سروس سیکٹر وافی یو بی ایل
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک