کراچی میں صوبائی حکومت کی ذخیرہ اندوزوں کیخلاف بڑی کارروائی، چینی اور چاول کے 13 ہزار تھیلے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
سندھ حکومت کی چینی اور چاول کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بڑی کارروائی، 13 ہزار سے زائد تھیلے برآمد کرلیے۔
کراچی کے علاقے کورنگی میں سندھ حکومت کے محکمہ بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز اور اسسٹنٹ کمشنر کورنگی کی مشترکہ کارروائی کے دوران چینی اور چاول کے 13 ہزار سے زائد تھیلے برآمد کیے گئے۔
کارروائی کے دوران ایک غیر رجسٹرڈ گودام سے 4000 چینی اور 9000 چاول کے تھیلے برآمد کر کے گودام کو سیل کر دیا گیا۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر بیورو آف سپلائی میر شاہنواز کے مطابق گودام محکمہ کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھا۔ ڈائریکٹر جنرل بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز زاہد حسین شر نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف سندھ حکومت کی ہدایات پر مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، اور کسی کو بھی عوامی مفاد کے خلاف ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیورو آف سپلائی اشیائے خوردونوش کی مناسب فراہمی اور قیمتوں میں استحکام کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے، اور گوداموں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیورو آف سپلائی چینی اور چاول کے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔