مسلح افواج پاکستان ہماری محافظ ہیں ، وزیراعظم آزاد کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
سٹی 42: وزیراعظم آزادکشمیر نے 5اگست ، یوم استحصال کشمیر کے موقع پر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کیا
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا پاکستان کے 24 کروڑ عوام ، آزادکشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور کشمیری ڈائسپورہ مسئلہ کشمیر کے پشت پر کھڑے ہیں ،موجودہ حکومت نے حریت قیادت کے ساتھ مل کر پبلک موبئلائزیشن کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مسئلہ کشمیر کوُاجاگر کرنے کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے ، انھیں تاریخ ہمیشہ یادرکھے گی ،مسلح افواج پاکستان ہماری محافظ ہیں ،آئین آزادکشمیر کی رو سے آپ کا وزیراعظم بااختیار ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت قائم ہے ،ہمیں آئین آزاد کشمیر کی رو سے تمام بنیادی حقوق میسر ہیں ، آزاد کشمیر کا آئین پرنسلی سٹیٹ آف جموں و کشمیر کا نمائندہ آئین ہے ، مہاجرین نشستوں کا معاملہ اٹھا کر مسئلہ کشمیر کو علاقائی مسئلہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ،فاضل رکن نیلم نے کہا کہ مہاجرین کی سیٹوں کے حوالے سے معاملہ کھڑا کرنے کے پیچھے کوئی نہ کوئی خرابی ضرور ہے، جواب میں دوسرے فاضل رکن نیلم نے کہا کہ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں لکیر کے دونوں اطراف کھیل رہی ہیں ، سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آج ایوان میں سب نےسٹیٹ آف ڈینائل سے باہر نکل کر محاسبہ کرنے کی کوشش کی ہے ،
الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے تین ارکان کو نااہل قرار دے دیا،9 نشستیں خالی ہو گئیں
انتشار پر مبنی تمام بیانیے تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کرنے کے لیے بنائے جارہے ہیں ، جب ریاست اپنی رٹ نافذ کرنے پر آئی تو رٹ نافذ کرنے میں 30 سیکینڈ نہیں لگیں گے آئین کے اکابرین ہمارے اسلاف ہیں، آئین میں ترمیم کا حق فقط ممبران اسمبلی کو ہے ، مسئلہ کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مسلح جدوجہد کو بھی خاطر میں لانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ، آج قانون ساز اسمبلی میں پیش ہونے والی قراردادوں کے ایک ایک حرف پر ایمان کی حد تک یقین ہے ،
خاتون نے بوائے فرینڈ سے تحفے کے طور پر لیے آئی فونز فروخت کرکے اپنا گھر خرید لیا
5 اگست 2019 کے بعد اس وقت کی پاکستان کی عسکری قیادت کے حوالے سے تحفظات اٹھائے گئے ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عسکری لیڈرشپ نے ان تحفظات کو اپنے لہو سے دھو دیا ہے ، آج مسئلہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی منظرنامے پر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے ، بھارت نے 35 اے ختم کر کے آبادی کی ہیئت کو خصوصی طور پر تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کی ، بھارت نے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے حلقہ بندیوں میں رد وبدل کیا ، اقوام متحدہ مسلم امہ کا ایک بھی مسئلہ حل کرنے میں ناکام ہو چکا ، اگر آزادکشمیر میں عدم استحکام ہوگا تو بھارت کو اس کا فائدہ ہوگا ، آزاد کشمیر کے ممبران اور بلخصوص وزیراعظم آزادکشمیر کو متعدد بار دہشتگردی کی تھریٹس مل چکی ہیں ،زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ،بیس کیمپ کی حکومت کا سارا نظام تحریک آزادی کشمیر کا مرہون منت ہے ، پاکستان کا آئین ہمیں حق دیتا ہے کہ کشمیریوں نے جز نہیں کل کی بنیاد پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے ، ایوان کو کسی چیز سے خطرہ نہین ہے ، آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے چیزیں زیادہ کلئیر نظر آرہی ہیں ، مہاجرین نشستوں کا معاملہ اٹھانا مسئلہ کشمیر کے خلاف سازش ہے ،لیڈر آف اپوزیشن نے ایک گرفتاری کی بات کی ہے ،گرفتاری کے حوالے سے کہوں گا کہ گرفتاریاں بھی صلاح مشورے سے ہوتی ہیں ،ہمیں شہداء کی قربانیوں کا ادراک کرنا ہے ، اگر نہیں کریں گے تو مجرم ٹھہریں گے،
4 روزہ تعطیلات، بڑی خوشخبری آگئی
مجھے کہا جاتا ہے کہ ساتھیوں کو ساتھ لے کر نہیں چلتا ، اگر میں ساتھیوں کو ساتھ لے کر نہیں چلتا تو پھر یہ مختلف جماعتوں کا غیر فطری اتحاد کس طرح قائم ہے؟جو افغانستان میں بیٹھ کر آزادکشمیر میں دہشتگردی کی دھمکیاں دے رہے ہیں انھیں یہاں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے ، دہشتگردوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والی بے ہودگی پھیلانے والوں سے قانون کے مطابق نمٹیں گے،13 ویں آئینی ترمیم کے بعد کہا گیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں رشتہ کمزور ہو جائے گا ، ہم نے 13 ویں آئینی ترمیم کی بھرپور وکالت کی ،چیزوں کو ابہام سے نکالا تو معاملہ سیٹل ہو گیا، آوارگی کی گفتگو وہ کرتے ہیں جن کی اپنی کوئی واضح سیاسی شناخت نہیں ہے ، اگر یہ آوارگی نہ رکی تو قیمت ہم سب کو ادا کرنی ہے ، مہاجرین والے معاملے کے استحصال کا اس مقبوضہ کشمیر میں بھارت والے استحصال سے کوئی تعلق نہیں ،میں بطور قائد ایوان ، آئین کے تابع پارلیمانی گفتگو کرنے کا پابند ہوں، حقوق کی تحریک تو ٹھیک ہے فرائض نبھانے کی ہمت کوئی نہیں کرتا۔
ہانگ کانگ میں طوفانی بارشوں نے 141 سالہ ریکارڈ توڑ دیا
ففتھ جنریشن وار کا دور ہے ہمیں اپنی اپنی دوکانیں چھوڑ کر اجتماعی طور پر اصلاح کرنے کی ضرورت ہے،قابل فخر یہ ہے کہ اس اسمبلی میں نظریاتی آلودگی موجود نہیں ہے، حریت قیادت کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ہم لڑیں گے اور تحریک آزادی کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔