ملک میں بارشوں کے ایک اور سپیل کی پیشگوئی، دریائے چناب اور جہلم میں سیلاب کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 اگست ۔2025 )ملک میں بارشوں کے ایک اور سپیل کی پیشگوئی کر دی گئی ہے پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، بلوچستان میں بادل برسنے کی توقع ہے، اس کے علاوہ کراچی سمیت سندھ ساحلی علاقوں میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ چند مقامات پر ہلکی بارش یا بونداباندی کا بھی امکان ہے.
(جاری ہے)
این ڈی ایم اے نے کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ممکنہ بارشوں کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے علاقوں ہنزہ، گھانچے اور شگر میں اچانک سیلابی صورتحال اور ندی نالوں میں طغیانی متوقع ہے کشمیر میں وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور کے علاقوں میں بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال متوقع ہے. این ڈی ایم اے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے بروقت آگاہی فراہم کر رہا ہے این ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات اور تیاری کی ہدایت جاری کر دی گئی ممکنہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے حساس علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں. ادھر گزشتہ 24گھنٹو ں کے دوران مظفرآباد اور گرد و نواح میں بارش ہوئی، کئی علاقوں میں بجلی غائب ہوگئی، بارشوں کے باعث دریائے چناب اور جہلم میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ بڑھ گیا سوات اور پنجکوڑہ کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بڑھ گیا، تربیلا، کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو بیراج میں درمیانے درجے کا سیلاب متوقع ہے، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر اسپل ویز کھول دیئے گئے، خانپور ڈیم میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے لگے، ہائی لیول سے صرف 11 فٹ کم رہ گیا. دوسری جانب موسم خرابی کے باعث اسلام آباد اور لاہور ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن متاثر ہوا ہے اسلام آباد ائیرپورٹ پر 21 پروازوں کی آمد اور روانگی تاخیر کا شکار ہے جب کہ کراچی سے اسلام آباد کی پرواز کو فیصل آباد میں اتارا گیا فلائٹ شیڈول کے مطابق ریاض، ابوظبی، مسقط، باکو اور دوحہ کی پروازوں کو بھی اسلام آباد لینڈنگ میں دشواری ہے جس کے باعث غیر ملکی پروازوں کی اسلام آباد سے روانگی میں ایک سے 2 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوگئی . حکام کا مطابق کراچی سے لاہور کی پرواز 4 گھنٹے 30 منٹ تاخیر سے روانہ ہو ئی جب کہ کراچی سے نجی ائیرلائن کی اسلام آباد کی پرواز میں بھی 2 گھنٹے تاخیر کا شکار رہی اس کے علاوہ کوالالمپور سے لاہور کے لیے غیرملکی ائیرلائن کی 2 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جب کہ لاہور ائیرپورٹ پر 7 پروازوں کی آمد اور روانگی میں ایک سے ساڑھے 9 گھنٹے تاخیر کا شکارہوگئی .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سیلابی صورتحال علاقوں میں اسلام آباد بارشوں کے تاخیر کا کے باعث
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان