سابق پاکستانی ماڈل عبیر افتخار کے شوہر کو برطانیہ میں قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
پاکستان کی معروف سابق ماڈل عبیر افتخار کے شوہر سلمان افتخار کو برطانیہ کی عدالت نے 15 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
نجی ویب سائٹ کے مبطابق پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین سلمان افتخار پر الزام تھا کہ انہوں نے لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے لاہور جانے والی ایک نجی ایئر لائن کی پرواز کے دوران ایک ائیر ہوسٹس کو شدید ہراساں کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق سلمان افتخار فضائی سفر کے دوران نشے کی حالت میں تھے اور اپنی پہلی بیوی ارم سلمان اور تین بچوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔
پرواز کے دوران سلمان نے ائیر ہوسٹس کو نہ صرف ہراساں کیا بلکہ اسے اجتماعی زیادتی کی دھمکیاں بھی دیں اور کہا کہ وہ اس کا جسم آگ لگا کر جلا دیں گے۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ خاتون شدید ذہنی صدمے سے دوچار ہوئی۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے اور ایک بزنس مین ہونے کے باوجود کی سزا سلمان افتخار کی سزا کو ایک اہم قانونی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سلمان افتخار برطانیہ میں دو ملین پاؤنڈ کے عالیشان گھر میں اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ پانچ سال قبل انہوں نے پاکستانی ماڈل عبیر افتخار سے دوسری شادی کی تھی، جس کے بعد عبیر نے ماڈلنگ کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلمان افتخار کی سزا
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔