کراچی ملک کا معاشی حب ہے، یہاں جدید عدالتی نظام کا قیام اہم ہے، چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کراچی ملک کا معاشی حب ہے، یہاں جدید عدالتی نظام کا قیام اہم ہے، چیف جسٹس WhatsAppFacebookTwitter 0 7 August, 2025 سب نیوز
کراچی(سب نیوز)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، یہاں جدید عدالتی نظام کا قیام بہت اہم ہے۔
ڈسٹرکٹ بار کراچی کے وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی سے ملاقات کی، اس موقع پر چیف جسٹس نے کراچی میں ضلعی عدلیہ اور قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ضلعی عدالتیں عوام کو انصاف کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے۔ یہاں جدید عدالتی نظام کا قیام اہمیت کا حامل ہے۔ ملاقات میں چیف جسٹس نے ہر صوبے میں ایڈیشنل ریزیڈنٹ سیکرٹری تعینات کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کرنے والوں میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر وڑائچ اور عبدالرحمن کورائی بھی شامل تھے۔ ملاقات میں لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ایڈیشنل ریزیڈنٹ سیکرٹری سہیل مشوری بھی موجود تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایس اینڈ پی کی جانب سے چین کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ’’اے پلس‘‘برقرار پی ٹی آئی دہشت گروں کیساتھ ہے، نیشنل ایکشن پلان پر کارروائی کسی کا باپ نہیں روک سکتا، طلال چوہدری خاتون ہراسانی کیس: سی ای او کے الیکٹرک نے 25 لاکھ جرمانہ جمع کرادیا پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کو عدالت سےبڑا ریلیف مل گیا سوات میں زمرد کی کان میں پھنسے چار مزدوروں کو بحفاظت نکال لیا گیا وفاقی حکومت کا 24 سرکاری اداروں کی تین مراحل میں نجکاری کا فیصلہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے رواں ہفتے امریکا کے دورے پر جانے کا امکانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا معاشی حب ہے چیف جسٹس
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔