وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے صدر اسماعیلی کونسل ، سی ای او سرینا ہوٹلز ، سی ای او آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی ملاقات، سیلاب متاثرین کی مدد کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
گلگت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 اگست2025ء) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان سے اسماعیلی کونسل برائے پاکستان کے صدر نزار میواوالا، سرینا ہوٹلز کے سی ای او عزیز بولانی، اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) پاکستان کے حاجی گلبر خان اختر اقبال نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے گلگت بلتستان میں تعلیم، صحت، قدرتی آفات سے بچاؤ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، سول سوسائٹی کی شمولیت سمیت مختلف شعبہ جات میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے مثبت کردار کو سراہا۔
وزیر اعلیٰ نے پرنس رحیم آغا خان کے نام خصوصی مراسلہ تحریر کیا تھا جس میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی شدید تباہی کے تناظر میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے مدد کی درخواست کی گئی۔ اس موقع پر صدر اسماعیلی کونسل نزار میواوالا نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی ایجنسیاں سیلاب زدہ علاقوں میں تعاون فراہم کریں گی اور مقامی کمیونٹیز کی بحالی و مضبوطی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گی۔(جاری ہے)
آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک نے گلگت بلتستان میں سات سکولوں کی ابتدائی بحالی، مرمت اور ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں کے مطابق دوبارہ تعمیر (گرین ریٹروفٹنگ) کا اعلان کیا۔ اسی طرح سیلاب سے متاثرہ سرکاری صحت مراکز میں شمسی توانائی کے نظام کی مرمت اور سولر سہولیات کی بحالی کی جائے گی۔ پینے کے پانی کی سکیموں اور حفاظتی انفراسٹرکچر کی مرمت، اور سیلاب زدہ علاقوں میں آٹھ کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں بھی قائم کی جائیں گی۔اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے والوں کو طبی سامان اور آلات مہیا کیے جائیں گے، جبکہ موبائل ہیلتھ یونٹس کے ذریعے معیاری علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ جلد ہی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 3000 کم غذائیت کا شکار بچوں اور خواتین کی نشاندہی اور علاج کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گلگت بلتستان علاقوں میں وزیر اعلی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔