وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کراچی میں زائرین مارچ کے قائدین سے ملاقات کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
ترجمان مجلس وحدت مسلمین سید شہریار کے مطابق طلال چوہدری مجلس وحدت مسلمین کی قیادت میں جاری زائرین مارچ کے قائدین سے ملاقات کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ اس ملاقات سے زائرین کو درپیش مسائل پر پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کراچی میں جاری زائرین مارچ کے مظاہرین سے ملاقات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے پارلیمانی لیڈر انجینئر حمید حسین بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ ترجمان مجلس وحدت مسلمین سید شہریار کے مطابق طلال چوہدری مجلس وحدت مسلمین کی قیادت میں جاری زائرین مارچ کے قائدین سے ملاقات کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ اس ملاقات سے زائرین کو درپیش مسائل پر پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، اور پرامن حل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ واضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین کے تحت زائرین امام حسینؑ کو زمینی راستے سے ایران اور عراق جانے پر عائد پابندی کے خلاف مارچ جاری ہے، جس میں علما، کارکنان، خواتین و بچوں سمیت بڑی تعداد میں عوام شریک ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زائرین مارچ کے طلال چوہدری سے ملاقات
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔