کراچی، زائرین کے مسائل کے حل کی کوشش کر رہا ہوں، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کراچی:
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ اربعین کے لیے عراق جانے والے زائرین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں، امید ہے کہ آج دوپہر تک معاملات حل ہو جائیں گے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ اس وقت ملک کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے جس کے پیش نظر کچھ اقدامات ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم کی قیادت نے میری درخواست پر بذریعہ روڈ روانگی مؤخر کر دی ہے، جبکہ کراچی سے حب جانے والا قافلہ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بتایا کہ ان کی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری سے ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی ہے جس میں زائرین کے مسائل اور ان کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ سیکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے حکومت اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زائرین کی قیادت سے ایک اور ملاقات آج دوپہر متوقع ہے، جس میں کیے گئے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ زائرین کے مسائل کا ادراک ہے اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ بلا تاخیر اور باحفاظت اپنے مقدس سفر پر روانہ ہو سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ نے کہا
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔